ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 175 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 175

۱۷۵ میں ہے کہ آپ کے خادموں اور غلاموں میں ظلی نبوت کا دروازہ کھلا ہو۔دیکھو! حضرت موسیٰ کے بعد کتنے نبی آئے کہ گویا نبیوں کا ایک تانتا بندھ گیا۔اور گو اُن نبیوں نے موسی کی پیروی کی برکت سے نبوت نہیں پائی تھی۔مگر بہر حال وہ موسی کی ماتحتی میں رکھے گئے تھے۔اور موسیٰ کی شریعت کے خادم بنے تھے۔مگر تمہیں کیا کہا جائے اور تمہاری سمجھ پر کیا رونا رویا جائے کہ تمہیں اپنے آقا فخر رسل سید ولد آدم کے خادموں میں ایک شخص کا نبی بننا بھی نہیں بھایا اور اس کا وجود تمہاری آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے! نبوت سے ہماری مراد وہ نہیں جو دوسرے مسلمانوں کے ذہن میں ہے بالآخر اس بات کی پھر مکر روضاحت کی جاتی ہے کیونکہ بدقسمتی سے یہی وہ بات ہے جس کی وجہ سے دوسرے مسلمانوں کو ہمارے عقیدہ کے متعلق غلط فہمی پیدا ہو رہی ہے کہ جن معنوں میں ہمارے سلسلہ کے مقدس بانی حضرت مسیح موعود نے اپنے آپ کو نبی کہا ہے یا جن معنوں میں کہ ہم آپ کو نبی مانتے ہیں وہ ہرگز ہرگز وہ نہیں جو اس زمانہ کے دوسرے مسلمانوں کے ذہن میں ہیں۔بدقسمتی سے آجکل عام مسلمانوں میں یہ غلط خیال راسخ ہو چکا ہے کہ نبی وہ ہوتا ہے جو کوئی نئی شریعت لائے۔یا سابقہ شریعت میں کوئی کمی یا بیشی کرے۔یا سابقہ نبی کے جوئے سے آزاد ہو کر نبوت پانے کا مدعی ہو یا اپنا کوئی نیا کلمہ بنائے یا کسی نئے دین کی بنیا د رکھے وغیرہ وغیرہ۔اور جب وہ حضرت بائی سلسلہ احمدیہ کی تحریرات میں نبوت کا دعویٰ پڑھتے ہیں یا کسی احمدی کے منہ سے یہ بات سنتے ہیں کہ اُن کے امام نے خدا کی طرف سے نبوت کا منصب پایا تھا تو نبوت