ختم نبوت کی حقیقت — Page 167
۱۶۷ بار ثبوت ہمارے مخالفین کے ذمہ ہے پھر اس دلیل کی ایک شاخ یہ بھی ہے کہ اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس زمانہ میں خدا کی یہ ازلی سنت بند ہوگئی ہے کہ وہ ہر بڑے فساد کے زمانہ میں کسی نبی کو مبعوث کر کے اصلاح کروایا کرتا ہے تو اس کا بار ثبوت اس شخص کے ذمہ ہے جو ایسا دعویٰ کرتا ہے۔ہمارا دعویٰ بہر حال کسی دلیل کا محتاج نہیں کیونکہ وہ خُدائی سنت اور ایک جاری شدہ طریق کے عین مطابق ہے۔دلیل لا نا اُن لوگوں کے ذمہ ہے جو خُدائی سنت کے خلاف ایک نئی بات کے مدعی بنتے ہیں۔پس اگر ہمارے مخالفین اپنے عقیدہ کی تائید میں کوئی عقلی دلیل پیش نہ کر سکیں جیسا کہ وہ خدا کے فضل سے ہر گز نہیں کر سکتے تو پھر اس معاملہ میں صحیح منطقی پوزیشن یہی ہے کہ اس صورت میں ہماری طرف سے قطعا کسی دلیل کی ضرورت نہیں کیونکہ جب بار ثبوت ہمارے مخالفین کے ذمہ ہے تو اُنکی طرف سے کسی عقلی دلیل کا پیش نہ کیا جانا ساری بحث کو ختم کر دیتا ہے۔موجودہ زمانہ کا فساد عظیم ایک نبی کا متقاضی ہے عقل کے میدان میں یہ دلیل بھی بہت بھاری وزن رکھتی ہے کہ موجودہ زمانہ کے حالات جب کہ مذہبی دُنیا میں عقائد اور اعمال کا غیر معمولی فساد رُونما ہے اور مادیت اور لادینی چاروں طرف جال پھیلائے ہوئے ہے اور دجالی فتنے جنکے متعلق ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق تمام نبی ڈراتے آئے ہیں ساری