ختم نبوت کی حقیقت — Page 143
۱۴۳ چوتھے خلیفہ تھے۔اور ان کی بلندشان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ انا مدینۃ العلم و علی با بھا۔یعنی میں علم کی بستی ہوں اور علی اس بستی کا دروازہ ہے۔سو اس علم و بصیرت والی ہستی کے متعلق روایت آتی ہے کہ آپ نے ایک شخص ابوعبد الرحمن بن سلمیٰ نامی کو اپنے صاحبزادگان حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کی تعلیم کے لئے مقرر کر رکھا تھا۔چنانچہ ابوعبد الرحمن روایت کرتے ہیں کہ:۔كنت اقرئ الحسن و الحسین رضی الله عنهما فمر بي علی ابن ابی طالب رضى الله عنه و أنا أقرتهما وقال لى أقرئهما وخاتم النبيين بفتح التاء- (در منثور مرتبه امام سیوطی زیر آیت خاتم النبیین ) و یعنی میں حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کو پڑھایا کرتا تھا تو ایک دفعہ جب میں ان صاحبزادگان کو پڑھا رہا تھا حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے اور مجھے مخاطب ہو کر فرمایا۔دیکھو انہیں خاتم النبین کا لفظت کی زبر سے پڑھانا۔“ ہمارے ناظرین جانتے ہیں کہ خاتمہ کا لفظ ( یعنی حروف سے اور الف اور تا اور ھ کا مجموعہ ) عربی زبان میں دو طرح پر آتا ہے۔ایک ت کی زبر سے خاتمہ کی صورت میں آتا ہے۔جس کے معنی مہر یا انگوٹھی کے ہوتے ہیں۔اور دوسرےت کی زیر سے خاتمہ کی صورت میں آتا ہے جس کے عام معنی تو آخری کے ہوتے ہیں مگر کبھی کبھی وہ مہر کے معنوں میں بھی استعمال ہو جاتا ہے۔لیکن چونکہ ت کی زیر کی صورت میں غلط نہی کا احتمال تھا اس لئے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کمال ذہانت اور دُور اندیشی سے اس خطرہ کو بھانپ کر