ختم نبوت کی حقیقت — Page 90
نعوذ باللہ نعوذ باللہ آپ نے متضاد ارشادات فرمائے ہیں۔یعنی کبھی تو آپ نے یہ فرمایا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔اور کبھی یہ فرمایا ہے کہ میرے بعد بھی نبی آسکتا ہے کبھی یہ فرمایا ہے کہ میں آخری نبی ہوں اور کبھی یہ فرمایا ہے کہ میرے بعد میری اُمت میں ایک مسیح آنے والا ہے اور وہ نبی ہوگا۔اس ظاہری تضاد کے دُور ہونے کی کوئی نہ کوئی صورت ہوئی چاہئیے اور ہمارا اور دوسرے مسلمانوں کا یہ مشترکہ فرض ہے کہ انتہائی سنجیدگی اور دیانتداری کے ساتھ اس معاملہ میں غور کر کے کوئی ایسی صورت نکالیں جس سے یہ تضاد ( جو یقیناً صرف ظاہر میں نظر آنے والا تضاد ہے کیونکہ ہمارے آقا کے کلام میں کوئی حقیقی تضاد نہیں ہوسکتا ) دُور ہو جائے۔اور جیسا کہ ہر عقلمند انسان ہمارے ساتھ اتفاق کر دیگا۔اس ظاہری تضاد کے دُور ہونے کی مندرجہ ذیل دوا مکانی صورتیں ہی ہیں :۔اوّل یہ کہ حدیثوں کے ظاہری تضاد کو اُن سے اوپر کے حاکم یعنی قرآن مجید کے سامنے رکھ کر اس سے فیصلہ حاصل کیا جائے کہ وہ اس بارہ میں کیا فرماتا ہے پھر جو حدیث قرآن کے مطابق ہو اُ سے لے لیا جائے، اور دوسری کو ر ڈ کر دیا جائے یہ وہ طریق ہے جس کی طرف خود قرآن نے رہنمائی کی ہے۔چنانچہ فرماتا ہے:۔فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللهِ وَايَتِهِ يُؤْمِنُونَ ( سورہ جاثیہ آیت ۷ ) یعنی اللہ اور اس کی آیات کے مقابل پر لوگ کس حدیث کو مانیں گے؟“ لیکن ہمارے مخالفین کو یہ صاف اور سیدھا طریق منظور نہ ہو تو پھر دوسرا طریق یہ ہے کہ دونوں قسم کی حدیثوں کو لے کر (سوائے اس کے کہ کوئی حدیث خاص طور پر ضعیف یا موضوع ثابت ہوجس کی بحث کا یہ موقع نہیں ) ان میں کوئی مطابقت اور موافقت کا رستہ