ختم نبوت کی حقیقت — Page 6
چونکہ بڑے فتنہ کو فرو کرنے کے لئے بڑے مصلح کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے آپ نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ اس زمانہ میں ایک عالی شان مجد دیعنی مثیل مسیح“ کا نزول ہوگا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حَكَمًا عَدُلًا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية۔۔۔۔۔كيف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم و امامکم منکم ( صحیح بخاری کتاب بدء الخلق باب نزول عیسی بن مریم ) یعنی مجھے اس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں ضرور ضرور مسیح ابن مریم (اپنے ایک مثیل کے ذریعہ ) نازل ہوگا۔وہ تمام دینی اختلافات میں حکم بن کر فیصلہ کر یگا اور اس کا فیصلہ حق وانصاف کا فیصلہ ہوگا۔وہ صلیبی فتنہ کے زور کے وقت میں آئے گا اور اس فتنہ کو پاش پاش کر دے گا۔اور اس وقت دُنیا میں خنزیری گندوں اور پلیدیوں کا بھی زور ہوگا۔اور مسیح ان پلید یوں کو تباہ کر کے رکھ دے گا۔مگر یہ سب کام دلائل اور براہین اور رُوحانی نشانوں کے ذریعہ ہوگا کیونکہ مذہبی جنگ اور جزیہ اُس زمانہ میں موقوف ہو جائے گا۔ہاں ہاں اُس وقت تمہاری کیسی اچھی حالت ہوگی جب مسیح تم میں نازل ہوگا اور وہ تمہیں میں سے تمہارا ایک امام ہوگا۔“ امام مہدی یعنی بروز محمد سی کے ظہور کی خبر اسی پیشگوئی کے دوسرے پہلو کا ذکر کرتے ہوئے خدا تعالیٰ قرآن مجید میں