ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 86 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 86

ہوئے فرماتے ہیں :۔۸۶ المراد انها لم تبق على العموم والا فالالهام والكشف للاولياء فموجود۔( شرح سنن ابن ماجہ مصنفہ امام ابوالحسن جلد ۲ صفحه ۴۴۸) یعنی اس حدیث میں الرؤيا الصالحة ( سچی خوابوں ) کا لفظ عام لوگوں کو مدِ نظر رکھ کر بیان کیا گیا ہے ورنہ اولیاء اور خواص کے لئے الہام اور کشف کا سلسلہ تومسلم اور موجودہی ہے۔“ خلاصہ یہ کہ حدیث لم يبق من النبوة إلا المبشرات میں اوّل تو صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم والی تشریعی نبوت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے لوگ مراد ہیں نہ کہ عام۔لیکن اگر اس حدیث کو عام سمجھا جائے تو پھر بھی مُبشیرات کے لفظ سے مطلقا نبوت کی نفی مراد نہیں بلکہ صرف تشریعی نبوت اور مستقل نبوت کی نفی مراد ہے۔اور حدیث کا منشاء یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے شریعت والی نبوت اور مستقل نبوت کا دروازہ تو بیشک بند ہو گیا ہے لیکن مبشرات اور منذرات والی نبوت کا دروازہ بند نہیں ہوا کیونکہ وہ آپ کی نبوت کی ظل ہے نہ کہ اصل اور آزاد نبوّت۔ایک مبشرات والے نبی کی پیشگوئی علاوہ ازیں حدیث لم يبق من النبوّة الّا المبشرات میں ایک اور لطیف اشارہ بھی تھا اور وہ یہ کہ اِس میں ضمنی طور پر آخری زمانہ میں مثیل مسیح کے نزول کی خبر