ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 58 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 58

۵۸ چکی ہے اور ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو ختم نبوت کے تاج سے مزین کیا جا چکا ہے۔مگر پھر بھی جب اس کے کئی سال بعد آپ کا بچہ ابراہیم فوت ہوتا ہے تو آپ فرماتے ہیں کہ :۔اگر میرا یہ لڑکا زندہ رہتا تو وہ ضرور نبی بن جاتا۔“ اس حدیث کے متعلق حضرت ملا علی قاری کی لطیف تشریح اس سے کیا نتیجہ نکلا؟ اسکے جواب میں اگر آپ لوگ ہماری نہیں سنتے تو فرقۂ حنفیہ کے جلیل القدر امام حضرت ملا علی بن محمد سلطان القاری ( وفات ۱۴ ہجری) کی سنیں جو فرماتے ہیں کہ:۔لو عاش ابراهیم و صار نبيَّا لكان من اتباعه۔۔فلا يناقض قوله تعالى خاتم النبيين اذا المعنى انه لا يأتي نبي بعده ينسخ ملته ولم في أمته- ( موضوعات کبیر صفحه ۶۶ و ۶۷) یعنی اگر ابراہیم زندہ رہتا اور نبی بن جا تا تو پھر بھی اُس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین میں ہی رہنا تھا تو اس صورت میں اس کے نبی بننے سے آیت خاتم النبیین کے مفہوم میں کوئی رخنہ نہ پیدا ہوتا۔کیونکہ خاتم النتین کے صرف یہ معنی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آ سکتا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرے اور آپ کی اُمت میں 66 سے نہ ہو۔"