ختم نبوت کی حقیقت — Page 57
۵۷ با وجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں نبی آ سکتا ہے۔کیونکہ یہ آیت صرف تشریعی اور مستقل نبوت کو روکتی ہے۔غیر تشریعی ظلی نبوت کو ہر گز نہیں روکتی۔صاحبزادہ ابراہیم آیت خاتم النبیین کے نزول کے کئی سال بعد پیدا ہوئے تھے۔اس حدیث کے تعلق میں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ آیت خاتم النبیین شنه ہجری میں نازل ہوئی تھی۔(ابن ہشام۔طبری و تاریخ خمیس ) مگر صاحبزادہ ابراہیم کی وفات اس کے چار پانچ سال بعد شبہ یا نہ ہجری میں ہوئی۔(طبری وزرقانی )۔اِس کا مطلب یہ ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لو عاش لكان صديقًا نبيًّا (یعنی اگر ابراہیم زندہ رہتا تو ضرور نبی بن جاتا) کے الفاظ فرمائے تو خاتم النبیین والی آیت اس سے پانچ سال پہلے نازل ہو چکی تھی۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ خدا کی طرف سے مختم مملات کا ارشاد آ چکا ہے مگر باوجود اس کے آپ نے یہ الفاظ فرمائے کہ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو ضر ور نبی بن جاتا۔یہ اس بات کا قطعی اور یقینی ثبوت ہے کہ آپ کے علم میں خاتم النبیین والی آیت حضرت ابراہیم کے نبی بننے کے رستہ میں ہرگز روک نہیں تھی۔اب دیکھو کہ یہ ایک کیسی صاف اور واضح حدیث ہے جو ختم نبوت کے باوجود امت محمدیہ میں نبوت کا دروازہ کھول رہی ہے۔کاش ہمارے مسلمان بھائی اس حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں ادو ستو خدا کے لئے سوچو اور غور کرو کہ آیت خاتم العینین اتر