ختم نبوت کی حقیقت — Page 26
۲۶ سکھاتا ہے کہ:۔اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (سورۂ فاتحہ آیت ۷،۶) یعنی اے ہمارے خدا جس نے ہماری طرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے تو ہمیں سیدھے راستہ کی طرف ہدایت دے۔وہ رستہ جو تیری طرف سے انعام پانیوالوں کا رستہ ہے۔“ یہ آیت جو قرآن مجید کے بالکل شروع میں درج ہے اور جسے ہر باعمل مسلمان دن میں کم از کم تین دفعہ پڑھتا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین کے لئے ایک عظیم الشان بشارت کی خبر دے رہی ہے۔اس آیت میں خدا تعالیٰ مسلمانوں کو یہ دُعا سکھاتا ہے کہ تم مجھ سے وہ تمام انعام مانگو جو میں تم سے پہلی امتوں میں انعام پانے والے لوگوں پر کرتا رہا ہوں۔یہ ظاہر ہے کہ اس دُعا میں صرف ہدایت طلب کرنا مقصود نہیں ہے کیونکہ اگر صرف یہی مقصد ہوتا تو اهْدِنَا الخراط الْمُسْتَقِيمَ کے الفاظ کہنا کافی تھے۔اور اس کے ساتھ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ کے الفاظ زیادہ کر نیکی قطعا ضرورت نہیں تھی۔ان الفاظ کا زیادہ کر نا صاف ظاہر کرتا ہے کہ اس جگہ صرف عام طلب ہدایت کی تعلیم دینا مقصود نہیں بلکہ اصل غرض یہ ہے کہ گذشتہ انعام پانے والوں کے انعاموں کی طرف توجہ دلا کر مسلمانوں کے دلوں میں ان انعاموں کی طلب اور ان کے حصول کے لئے تڑپ کا جذبہ پیدا کیا جائے اور اُمت محمدیہ کے معیار کو بلند کر کے مسلمانوں کو اس بات کی طرف تو جہ دلائی جائے کہ جو انعام پہلی امتوں کو متفرق طور پر ملتے رہے ہیں وہ سب کے سب تمہارے لئے بصورت اتم جمع کر دیئے گئے ہیں۔چنانچہ اس کی تشریح میں