ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 178 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 178

۱۷۸ بحث کا خلاصہ اور رسالہ کا خاتمہ اب میں خدا کے فضل سے اور اسی کی توفیق کے ساتھ اس مضمون کے سارے حصوں کی بحث ختم کر چکا ہوں۔یعنی ابتدائی تمہید کے بعد سب سے پہلے قرآنی آیات کی روشنی میں مسئلہ ختم نبوت کا حل پیش کیا گیا ہے۔اس کے بعد احادیث کی رُو سے اس مسئلہ کی بحث کی گئی ہے۔پھر اپنے عقیدہ کی تائید میں گزشتہ بزرگوں کے اقوال درج کئے گئے ہیں۔اور بالآخر عقلی دلائل سے ثابت کیا گیا ہے کہ نہ صرف یہ کہ اس اُمت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شاگردی اور غلامی میں خلقی اور امتی نبی آسکتا ہے بلکہ یہ کہ زمانہ زبانِ حال سے پکار رہا ہے کہ اس وقت ایک نبوت کی طاقتوں والے مصلح کی ضرورت ہے اور یہی وہ چار امکانی ذریعے ہیں جن سے کسی زیر بحث اسلامی مسئلہ پر روشنی ڈالی جاسکتی ہے۔اور الحمد للہ کہ ان چاروں کسوٹیوں نے بالا تفاق ہمارے حق میں ڈگری دی ہے۔قرآن مجید بآواز بلند گواہی دے رہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں جو غیر اُمت کا درجہ رکھتی ہے گزشتہ امتوں سے بڑھ کر رُوحانی انعاموں کے دروازے کھلے ہیں کیونکہ جہاں گزشتہ امتوں میں جوشخص نبوت کا درجہ پاتا تھا وہ کسی سابقہ نبی کی پیروی سے نہیں پاتا تھا بلکہ براہِ راست پا تا تھا وہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام ختم نبوت کی برکت سے امت محمدیہ میں یہ دروازہ آپ کی شاگردی اور غلامی میں کھولا گیا ہے۔پھر حدیث کے میدان میں نہ صرف یہ کہ متعد دا حادیث اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں بغیر شریعت کے نبی آسکتا ہے بلکہ جو حدیثیں متشابہ مجھی جاتی ہیں اُن پر غور کرنے سے بھی یہی بات ثابت