ختم نبوت کی حقیقت — Page 176
کی اس غلط تعریف کی وجہ سے جو اُن کے ذہنوں میں سمائی ہوئی ہے وہ جھٹ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ یہاں بھی اسی قسم کی نبوت کا دعوئی ہے۔اور یہ کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رکسی نئے دین کی بنیا درکھی ہے۔اور کوئی نیا کلمہ ایجاد کیا ہے اور آپ کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں رہا۔حاشا وکلا یہ خیال ہرگز درست نہیں۔اور ہم خُدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں جس کی جھوٹی قسم کھا نالعنتیوں کا کام ہے کہ حضرت مسیح موعود کا ایسا کوئی دعویٰ نہیں اور نہ ہم آپ کو ایسا نبی مانتے ہیں۔بلکہ جیسا کہ آپ نے اپنی کتب میں بار بار صراحت کی ہے آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی اور شاگردی میں اسلام کی خدمت کے لئے مبعوث ہوئے تھے اور آپ ہرگز کوئی نیا دین نہیں لائے اور نہ آپ نے کوئی نیا کلمہ بنایا ہے بلکہ آپ کا اور آپ کے متبعین کا وہی اور صرف وہی ابدی کلمہ ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( فداہ نفسی ) کو دیا گیا یعنی :۔لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ 66 اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اورمحمدصلی اللہ علیہ وسلم خدا کے رسول ہیں۔“ آے زمین و آسمان اور اے جن و انس ! گواہ رہو کہ ہم نے خدا کی قسم کھا کر یہ شہادت دی ہے اور انشاء اللہ ہم اسی شہادت کے ساتھ اس دُنیا سے رخصت ہوں گے کہ ہمارا دین اسلام ہے اور ہماری کتاب قرآن ہے اور ہما را رسول محمد صلعم ہے جو خاتم النبیین ہے اور سب نبیوں سے افضل اور سید اولین و آخرین ہے اور اسی کی ہم اُمت ہیں۔جو شخص اس عقیدہ کے سوا ہماری طرف کوئی اور عقیدہ منسوب کرتا ہے