ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 168 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 168

۱۶۸ قوموں اور ساری ملتوں کو گھن کی طرح کھاتے جا رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔یہ سب حالات ایک نبی کی بعثت کے متقاضی ہیں۔جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شاگردی اور فرزندی میں اور آپ کے رُوحانی سورج سے روشنی پا کر دنیا کومنو رکرے۔بیشک گزشتہ صدیوں میں بھی تاریکی کا دور دورہ رہا ہے مگر جو غیر معمولی تاریکی اور ایمان اور اعمال کے میدان میں جو غیر معمولی فساد اس زمانہ میں آکر رُونما ہوا ہے اس کی مثال کسی دوسرے زمانہ میں نہیں ملتی۔پس اگر گزشتہ صدیوں میں عام مجد دوں سے کام چل سکتا تھا تو موجودہ زمانہ میں ایک ایسے عظیم الشان محمد د کی ضرورت تھی جو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے فیض سے نبوت کے مقام کو پہنچ کر اور موت کی طاقتوں سے آراستہ ہو کر دُنیا میں اصلاح کا کام سر انجام دے۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری زمانہ کے غیر معمولی ظلمات اور فسادات کے پیش نظر فر ما یا تھا کہ بیشک ہر صدی کے سر پر عام مجد د آتے رہیں گے مگر دجالی فتنوں کے زمانہ میں وہ شخص مبعوث ہوگا کہ:۔ليس بيني و بينه نبی (ابوداؤد) 66 د یعنی میرے اور اُس کے درمیان کوئی اور نبی نہیں۔“ علامہ اقبال اور مولوی مودودی صاحب کی شہادت یہی وہ تاریک زمانہ ہے جس کے متعلق شاعر قوم علامہ اقبال نے مسلمانوں کے مذہبی انحطاط کو دیکھ کر فرمایا تھا کہ:۔