ختم نبوت کی حقیقت — Page 147
۱۴۷ هي نبوّة التشريع لا مقامها فلا شرع ناسخا لشرعه صلى الله عليه وسلّم ولا يزيد فى شرعه حكمًا آخر وهذا معنى قوله صلى الله عليه وسلم ان الرسالة والنبوّة قد انقطعت فلا رسُول بعدی ولا نبی آی لا نبى بعدى يكون على شرعٍ يخالف شرعى بل اذا كان يكون تحت حکم شریعتی - (فتوحات مکیہ جلد ۲ صفحه ۳ طبع مصر) یعنی نبوت کی وہ قسم جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود سے بند ہوگئی ہے وہ صرف شریعت والی نبوت ہے کیونکہ اب اس کے لئے کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔پس آئندہ کوئی ایسی شریعت نہیں آسکتی جو آپ کی شریعت کے کسی حکم کو منسوخ کرے یا آپ کی لائی ہوئی شریعت میں کوئی محکم زیادہ کرے۔اور یہی معنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے ہیں کہ اب رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے۔اور میرے بعد کوئی رسول اور نبی نہیں۔اس سے آپ کی مراد یہ تھی کہ آئندہ کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو کسی ایسی شریعت پر قائم ہو جو میری شریعت کے خلاف ہے۔بلکہ جب بھی کوئی آئے گا تو وہ میری ہی شریعت کے تابع ہوگا۔“ اور پھر اسی مضمون پر اسی کتاب میں دوسری جگہ فرماتے ہیں :۔النبوة سارية الى يوم القيامة فى الخلق وإن كان التشريع قد انقطع فالتشريع جزء من اجزاء النبوة - (فتوحات مکیہ جلد ۲ صفحه ۱۰۰ طبع مصر)