ختم نبوت کی حقیقت — Page 137
۱۳۷ سواس سوال کے جواب میں اچھی طرح تو جہ دے کر سمجھ لینا چاہئیے کہ جیسا کہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم سلسلۂ رسالت کا مرکزی نقطہ ہیں۔چنانچہ آپ خود فرمایا کرتے تھے کہ کنت نبيًّا و آدم منجدل بين الماء والطين۔” یعنی میں اُس وقت سے نبی ہوں کہ ابھی دُنیا کا سب سے پہلا انسان ( یعنی آدم ) پیدا بھی نہیں ہو ا تھا۔اس پر حکمت کلام سے یہی مرا تھی کہ خدا تعالیٰ نے یہ تمام سلسلہ نبوت ورسالت اس غرض سے چلایا تھا اور اس رنگ میں چلایا تھا کہ اسے بالآخر آپ کی نبوت تامہ کاملہ میں اوج کمال تک پہنچایا جائے۔اسی طرح روایت آتی ہے کہ آپ سے خُدا تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ لولاک لما خلقت الافلاك ” یعنی اے محمد اگر تو نہ ہوتا تو میں یہ زمین و آسمان بھی پیدا نہ کرتا۔جس کا یہ مطلب ہے کہ آپ نہ صرف سلسلہ نبوت کے بلکہ عالم روحانی کے بھی مقصد ومنتہا تھے۔اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ آپ نے بار بار یہ اعلان فرمایا کہ انا سيد ولد آدم ولا فخر وانا اكرم الاولين و الأخرين ولا فخر ” یعنی میں تمام بنی آدم کا سردار ہوں مگر میں اس کی وجہ سے فخر نہیں کرتا اور میں اولین و آخرین میں سے خدا کے حضور سب سے افضل ہوں مگر میں اس کی وجہ سے فخر نہیں کرتا۔یہی وجہ ہے کہ آپ کو وہ دائگی اور عالمگیر شریعت دی گئی جو سب شریعتوں سے افضل ہے۔اور اس کے بعد قیامت تک کوئی اور شریعت نہیں۔تو جب آپ کا یہ ارفع مقام ہے اور آپ کی شریعت کی یہ بے نظیر شان ہے تو ضروری تھا کہ آپ اپنے اس خدا داد منصب کی تبلیغ و تلقین کے لئے اس قسم کے خاص امتیازی الفاظ استعمال فرماتے تا دنیا پر ظاہر ہو کہ سلسلۂ رسالت کی سب پچھلی تاریں آپ میں پہنچ کرختم ہو گئی ہیں۔اور سب اگلی تاریں آئندہ آپ کے وجود میں سے ہو کر نکلیں گی۔