ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 123 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 123

۱۲۳ سے سات سو سال پہلے کا ہے اور ہے بھی اُس شخص کا جو اسلام میں گویا ایک امام کا درجہ رکھتا ہے۔اور اگر اس حوالہ کے متعلق کسی شخص کے دل میں اس قسم کا شبہ پیدا ہو جو حضرت مُلا علی قاری اور حضرت امام شعرانی کے حوالوں کے متعلق او پر کے صفحات میں بیان کیا گیا ہے تو وہ حدیث لو عاش ابراهيم لكان صديقًا <mark>نبی</mark>ا اور حدیث لا <mark>نبی</mark> بعدی کی بحث کے ضمن میں میرا اُصولی نوٹ جو اسی قسم کے اعتراض کے جواب میں لکھا گیا ہے دوبارہ ملا حظہ کر لے اور اگر پھر بھی اس کا شبہ باقی رہے تو اس کا معاملہ خُدا کے ساتھ ہے۔وانك لا تهدى من احببت ولكن الله يهدى من يشاء - ریث مثلی و مثل الا<mark>نبی</mark>اء من قبلی کی تشریح اس کے بعد میں اس حدیث کو لیتا ہوں جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان مثلی و مثل الا<mark>نبی</mark>اء من قبلی کمثل رجل بنى بيتًا فاحسنه و اجمله الّا موضع لبنة من زاوية فجعل الناس يطوفون به ویعجبون له ويقولون هلا وضعت هذه اللبنة فقال انا اللبنة وانا خاتم ال<mark>نبی</mark>ن۔یعنی ” میری اور مجھ سے پہلے ا<mark>نبی</mark>اء کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک شخص نے ایک مکان بنایا اور اس میں ہر طرح کی خوبصورتی کا خیال رکھا۔اور اُسے اچھی طرح سجایا مگر اس کے ایک کو نہ میں ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی۔لوگ اس مکان کے ارد گرد گھومتے تھے اور اُسے دیکھ دیکھ کر تعجب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اس ایک اینٹ کی جگہ کیوں خالی رہ گئی ہے؟ پس میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم ال<mark>نبی</mark>ین ہوں۔" اس حدیث کو پیش کر کے ہمارے مخالفین کہا کرتے ہیں کہ دیکھونبوت کی عمارت