ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 114 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 114

۱۱۴ ختم موت کی حقیقت دوستو اور عزیز و! خدا تمہاری آنکھیں کھولےسوچو اور غور کرو کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کے بعد اسلامی ممالک میں لاکھوں کروڑوں مسجدوں کے بننے کے باوجُوران مسجدی آخر المساجد کا مفہوم قائم رہتا ہے اور اس میں کوئی رخنہ نہیں پیدا ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں آپ کے کسی خادم اور شاگرد اور خوشہ چین کا آپ کی اتباع اور غلامی میں آپ کا ظل بن کر نبوت کا انعام پانا رکس طرح ابی اخر الانبیاء ( یعنی میں آخری نبی ہوں) کے منشاء کے خلاف قرار دیا جا سکتا ہے؟ تم مانو یا نہ مانو بات وہی ہے جو ہم او پر لکھ آئے ہیں کہ ہمارا آقا (فداہ نفسی) بہر حال آخری نبی ہے کیونکہ نبوت کی جو اقسام ( یعنی تشریعی نبوت اور مستقل نبوت ) آپ کے آخری نبی ہونے کے مفہوم کو باطل کر سکتی ہیں، ان کا رستہ بہر صورت بند ہے۔اور اس کے مقابل پر جس قسم کی نبوت کا رستہ کھلا ہے ( یعنی ظلی نبوت ) اس کی وجہ سے آپ کے آخری نبی ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔کاش دُوسرے مسلمان اس نکتہ کو سمجھیں ! اے کاش وہ سمجھیں !! آخری کے معنی کامل کے بھی ہیں علاوہ ازیں آخری کے معنی عربی میں ایسے شخص کے بھی ہوتے ہیں جو اپنے فن میں آخری حد کو یعنی کمال کو پہنچ گیا ہو۔اس کی مثالیں عربی نظم و نثر میں کثرت کے ساتھ ملتی ہیں۔لیکن چونکہ ہم اپنی اس بحث کو جو پہلے ہی کافی لمبی ہوگئی ہے مزید طول نہیں دینا چاہتے اسلئے اس جگہ صرف ڈاکٹر سر محمد اقبال کے کلام سے اُردو کی ایک مثال پر اکتفاء کرتے ہیں۔اُمید ہے ہمارے ناظرین جن میں غالبا اکثر اقبال کے کلام اور فلسفہ کے دلدادہ ہوں گے اس مثال سے ضرور فائدہ اُٹھائیں گے۔علامہ اقبال فرماتے ہیں :۔