ختم نبوت کی حقیقت — Page 7
فرماتا ہے:۔هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ ، وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَللٍ مُّبِيْنٍ وأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ - (سورۃ جمعہ آیت ۴،۳) یعنی خدا نے عربوں میں انہیں میں سے اپنا ایک رسول بھیجا ہے جو انہیں خدا کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک وصاف کرتا اور کتاب اور حکمت کی باتیں سکھاتا ہے اگر چہ اس سے قبل وہ کھلی کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے اور ایک دوسری جماعت بھی انہی کے ساتھ کی ہے جس کی ہمارا یہ رسول (اپنے ایک نظل اور بروز کے ذریعہ) تربیت فرمائیگا مگر یہ جماعت ابھی تک دُنیا میں ظاہر ہو کر صحابہ کی جماعت سے ملی نہیں۔لیکن آئندہ ایک زمانہ میں ضرور ظاہر ہو جائے گی۔66 مسیح و مہدی نے اہلِ فارس میں سے ہونا تھا بخاری کی ایک حدیث میں آتا ہے کہ جب سورہ جمعہ کی یہ آیات نازل ہوئیں جو او پر درج کی گئی ہیں تو کسی صحابی نے آپ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! یہ آخرین لوگ کون ہیں؟ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مقرب صحابی حضرت سلمان فارسی کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ:۔لو كان الايمان عند التريا لناله رجل من هؤلاء ( بخاری کتاب التفسیر باب تفسیر سورۃ جمعہ )