ختم نبوت کی حقیقت — Page 5
میں خدمت دین کیلئے خلفاء مقرر کرے گا جس طرح کہ اس نے تم سے پہلے نبیوں کی قوموں میں خلفاء مقرر کئے۔اور اللہ تعالیٰ ان خلفاء کے ذریعہ اس دین اسلام کو جو اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے دُنیا میں مضبوط ومستحکم کر دے گا۔اور ان کی خوف کی حالت کو امن کی حالت سے بدل دے گا۔یہ خلفاء خالص میری ہی عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے مگر اس انتظام کے ہوتے ہوئے بھی جو شخص انکار اور ناشکری کا راستہ اختیار کرے گا وہ خُدا کے نزدیک بدعہد سمجھا جائے گا۔“ مجد دین کا سلسلہ اس قرآنی آیت کی تشریح میں ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔إِنَّ اللهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَيِّدُ لَهَا دِينَهَا - (ابوداؤد جلد ۲ باب الملاحم ) یعنی خدا تعالیٰ میری اُمت کے لئے ہر صدی کے سر پر ایک ایسا شخص مبعوث کرتا رہے گا جو اس کے دین کی تجدید کر کے مسلمانوں کے اُن عقائد اور اعمال کی اصلاح کیا کریگا جو اس درمیانی عرصہ میں بگڑ چکے ہوں گے۔“ مثیل مسیح کی پیشگوئی لیکن عام مجددین کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد ایک خاص تاریکی کے زمانہ کا بھی ذکر فرمایا تھا جس میں غیر معمولی دجالی فتنوں کا ظہور مقدر تھا اور