ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 141 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 141

۱۴۱ صحابہ کی زندگی میں ہی اس غلط فہمی کا آغاز ہو گیا تھا اس ضمنی نوٹ کے بعد میں اپنے اصل مضمون کی طرف رجوع کرتا ہوں۔جیسا کہ او پر صراحت کی گئی ہے۔ختم نبوت کی تشریح اور لا نبی بعدی کی حقیقت کے متعلق ابتدائی مسلمانوں کے خیالات میں ایک قسم کا مجزوی انتشار صحابہ کرام کے زمانہ میں ہی نومسلم تابعین کے ایک طبقہ میں شروع ہو گیا تھا۔لیکن چونکہ یہ انتشار صرف ایک محمد ود اور قلیل طبقہ میں تھا۔اسلئے طبعا وہ زیادہ نمایاں نہیں ہوا۔اور اس انتشار کا احساس بھی صرف خاص خاص صحابہ کو ہوا جنہوں نے اسے اپنے اپنے رنگ میں دبانے اور مٹانے کی کوشش کی۔چنانچہ جو روایتیں ہم ذیل میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی پیش کریں گے وہ اس بات پر یقینی گواہ ہیں کہ اِن ہر دو بزرگوں نے کس طرح اس غلط رجحان کو محسوس کر کے اس کی اصلاح کی کوشش فرمائی۔لیکن چونکہ ابھی تک یہ رجحان صرف ایک چھوٹے سے بیج کے رنگ میں تھا اور صرف نو مسلم تابعین کے ایک قلیل حصہ تک محدود تھا اور غالبا یہ طبقہ مرکز اسلام سے بھی دُور رہتا تھا۔اسلئے اس غلط نہی کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔اور نہ ہی وقتی حالات کے ماتحت اسکی طرف زیادہ توجہ ہوئی۔نتیجہ یہ ہوا کہ اندر ہی اندر مسلمانوں کے ایک طبقہ میں یہ غلط خیالات راسخ ہوتے گئے کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔اور اب آپ کے بعد کوئی شخص کسی رنگ میں بھی نبوت کا انعام نہیں پاسکتا۔اور پھر جوں جوں عہد نبوت سے دُوری ہوتی گئی یہ غلط خیالات زیادہ جڑھ پکڑتے اور زیادہ وسیع ہوتے گئے۔لیکن جیسا کہ ہم انشاء اللہ ابھی ثابت کریں گے مسلمان علماء اور صلحاء کا ایک حصہ ہر