بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت

by Other Authors

Page 32 of 64

بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 32

tup حضرت امام شعرانی رحمتہ اللہ علیہ پر افتراء ہے کہ وہ حضور سرور کائنات صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد مرزائیوں کی طرح غیر تشریعی نبوت کے قائل تھے۔امام شعرانی نے تشریعی اور غیر تشریعی نبوت کی تقسیم انہی تین امور کے پیش نظر کی ہے جن کا ذکر ہم نے حضرت شیخ اکبر کے حوالہ سے کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں :- " 3۔۔۔اسی طرح جب حضرت عیسی زمین پر نازل ہوں گے تو ہمارے نبی محمد مصطفے صلی علیہ وسلم کی شریعت کے مطابق فیصلہ کریں گے " الجواب - حضرت امام شعرانی علیہ الرحمتہ کے حوالہ کو مولوی لال حسین نے تسلیم کر لیا ہے مگر پھر اس امر کو ہمارا افتراء قرار دیا ہے کہ وہ ہماری طرح غیر تشریعی نبوت کے اجراء کے قائل تھے۔مولوی لال حسین صاحب کے نزدیک انہوں نے نبوت کی تقسیم تشریعی اور غیر تشریعی میں پہلے بیان کرنا تمین امور کو مد نظر رکھ کر کی ہے۔جب ہم اس تقسیم کو درست تسلیم کرتے ہیں تو ہمارا ان پر افتراء کیا ہوا۔وہ خود کہتے ہیں کہ مطلق نبوت نہیں ابھی۔ہم ہم کہتے ہیں۔مانا کہ انہوں نے نبی کی تقسیم تشریعی اور غیر تشریعی میں ان L امور کے پیش نظر کی ہے کہ حضرت عیسی نبی اللہ آئیں گے اور مدینہ لَمْ يَبْقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِّراتُ کے مطابق مبشرات نبوت میں سے باقی ہیں۔اس لئے مبشرات کا ملنا غیر تشریعی نبوت ہے اور اولیا پر وحی و الہام کا دروازہ کھلا ہے۔لہذا جب انہوں نے حضرت