بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت

by Other Authors

Page 52 of 64

بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 52

OK تصدیق کی غرض کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتے ہیں :- " بعد نزول حضرت میٹی کا آپ کی شریعت پر عمل کرنا اسی بات پر مبنی ہے اور رسول الیہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا ارشاد علمت علم الأولِينَ وَالْآخَرِيْنَ بشرط فہم اسی جانب مُشیر ہے تحذیر الناس مت ) پس جب حضرت عیسی نبی اللہ کا آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کے لئے آنا اُن کے نزدیک خاتمیت زمانی کے بھی منائی نہیں جیسا کہ خاتمیت ذاتی کے منافی نہیں۔کیونکہ اُن کی آمد آپ کے نزدیک نئی شریعت اور نئے دین کی حامل نہیں ہوگی۔تو اس سے صاف ظاہر ہوا کہ ایسی تابع نبوت جس کے لئے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا اتنی ہونا لازم ہو اور اس طرح وہ نبوت کسی نے علم دین و شریعت جدید کی حامل نہ ہو بلکہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق اور تجدید اسلام اصلاح خلق اور اشاعت اسلام اس کی غرض ہو۔وہ مولوی محمد قاسم صاحب کے نزدیک خاتمیت زمانی کی غرض کے خلاف نہ ہونے کی وجہ سے آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کی خاتیمیہ ، زمانی کے خلاف نہیں۔گو وہ عقید تا آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد بھر عیسی علیات لام کے کسی اور نبی کی آمد کے قائل نہ ہوں۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا دعوی بھی تو مسیح موعود کا ہی ہے۔پس ہمارا مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی سے عرف مسیح موعود کی شخصیت میں اختلاف ہوا۔ورنہ مسیح موعود کو وہ بھی غیر تشریعی نبی مانتے ہیں اور ہم بھی غیر تشریعی نبی مانتے ہیں۔پس ہم دونوں کے نزدیک مسیح موائم کی نبوت غیر تشریعی مایع شریعت محمدیہ ہونے کی وجہ سے منائی خاتمیت زمانی نہیں۔