بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت

by Other Authors

Page 37 of 64

بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 37

ہونے پر اجماع کے قائم ہونے کے باوجود آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی امت میں رسولوں کا آنا بھی ضروری قرار دیتے ہیں۔چنانچہ تحریر فرماتے ہیں :- فَلا تخلو الاَرْضُ مِنْ رَسُولٍ حَيَّ بِحِسْمِهِ إِذْ هُوَ قُطب الْعَالَمِ الإِنسَانِي وَلَوْ كَانُوا أَلْفَ رَسُوْلِ فَإِنَّ الْمَقْصُود مِنْ هُوَ لَاءِ هُوَ الْوَاحِدُ " (الیواقیت والجوابر بحث ۴۵ صنت جلد ۲ ) یعنی زمین کبھی مجسم زندہ رسول سے خالی نہ رہے گی خواہ ایسے ہیول شمار میں ہزار ہوں۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عالیم انسانی۔کے قطب ہیں۔اور ان رسولوں سے مقصود خود آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی ہی واحد شخصیت ہے ریعنی یہ رسول آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا ہی ہیروز اور فل ہوں گے۔پھر آگے لکھتے ہیں :- تمَازَالَ الْمُرْسَلُونَ وَلَا يَنَالُونَ فِي هَذِهِ الدَّابِ لعين من بالطريةِ شَرْعِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلكِنَّ الثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ " یعنی پہلے بھی مرسلین دُنیا میں رہے اور آئندہ بھی اس دُنیا میں رہینگے لیکن یہ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی باطنیت سے ہوں گے۔ریعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعیت کی پیروی سے مُرسل بنیں گے لیکن اکثر لوگ اس حقیقت و شریعت محمدیہ کی باطنیت کی حقیقت سے واقف نہیں تو الیواقیت والجواهر جلد ۲ صفحه ، و بحث ۴۵)