بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 57
وَرَدَ لانى بَعْدِي وَمَعْنَاهُ عِنْدَ الْعُلَمَاءِ لَا يَحْدُتُ حدَهُ نَبِيٌّ بِشَرْعِ يَنْسَخُهُ " (ص) ترجمه حدیث میں لانبی بعدی آیا ہے اور علماء کے نزدیک اس کے یہ معنے ہیں کہ آپ کے بعد کوئی ایسا نبی پیدا نہیں ہوگا جو آپ کی شریعت کا ناسخ ہو۔اسی کا ترجمہ اقتراب الساعہ" میں یوں درج ہے:۔" لانبی بعدی آیا ہے جس کے معنے نزدیک اہل علم کے یہ ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی تشریح ناسخ لے کر نہیں آئے گا " (اقتراب الساعه صفحه ۱۶۲) اب ذرا لا نبی بعدی کی حدیث کے یہ معنے ذہن میں رکھئے اور فیسٹ ایمائی سے لے کر آخر تک مولوی لالی حسین کی پیش کردہ مرقاۃ کی عبارت پڑھ جائیے تو صاحت ظاہر ہوگا کہ امام علی القاری علیہ الرحمۃ حضرت علی کے متعلق حدیث کے ايمار وَلَوْ كَانَ بَعْدَم نَبِيُّ لَكَانَ علی اور حضرت عمر کے متعلق صریح حدیث لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِي الكَانَ عُمر میں فرضی حکم قرار دے کر اور تشریعی نبوت مراد لے کہ ایسی نبوت کو لا نبی بعدی کی حدیث کے منافی قرار دے رہے ہیں۔اسی طرح حدیث کو عاش اِبرَاهِيمُ لكَانَ مِدِيقًا نَيا میں می رمنی اور تقدیر کی محکم قرار دے کر اور تشریعی نبوت مراد لے کر بنا رہے ہیں۔کہ اگر صاحبزادہ ابراہیم نبی ہو جاتے تو وہ شارع نبی ہوتے مگر ایسا نبی ہوتا حدیث ہو لانبی بعدی کے غلات ہے۔نہیں اس جگہ لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيم لعان