بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 56
۵۶ لَمَا وَسِعَهُ إِلَّا انباری یہ ہے کہ موسی و صنعت نبوت و رسالت کے أى مع وضعت الله اي ساتھ زندہ ہوتے ورنہ نبوت و رسالت کے مَعَ وَضَعَتِ والرِّسَالَةِ وَإِلَّا قَمَعَ چھن جانے کے ساتھ ان کا تابع ہونا) آنحضرت سَدِهِ مَا لَا يُفيدُ زِيَادَةَ صل اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کو کوئی فائدہ نہیں دیتا (مرقاة جلده مه ) المزية اس عبارت سے ظاہر ہے امام صاحب موصوف کے نزدیک حدیث لا نسبتی بعدی امتی نبی کے آنے میں مانع نہیں ورنہ ان کے نزدیک حضرت عیسی علیہ السلام بھی بعد انہ نزول نہبی نہ ہو سکتے۔اُوپر کی عبادت کے بعد وہ عیادت شروع ہوتی ہے جو مولوی لال حسین صاحب نے درج کی ہے۔اس کے پہلے فقرہ الا يحدث بعد نبی لانه خاتم النبيين السابقین اسے امام علی القاری یہ بتا رہے ہیں کہ آنحضرت صل اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی منتقل اور شارع نبی پیدا نہیں کیا جائے گا کیونکہ وسیل اس کی یہ دی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انبیائے سابقین کے خاتم ہیں۔مخاتم النبیین کے ساتھ السابقین (کچھیلے) کا لفظ اس بات کے لئے قطعی قرینہ ہے کہ اس جگہ وہ یہ بیان کر رہے ہیں کہ حدیث لا نبی بعدی کی لہو سے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نئی شریعت لائیو الا یا مستقل نبی نہیں آسکتا کیونکہ انبیائے سابقین تشریعی یا مستقل نبی تھے۔ایک دوسرے مقام پر وہ تصریح سے یہ بیان کرتے ہیں کہ حدیث لا نبی بعدی کے یہ معنے ہیں کہ کوئی ناسخ شریعت نبی پیدا نہیں ہو گا چنانچہ الاشاعتہ فی اشراط الساعۃ میں اُن کا یہ قول یوں درج ہے:۔