بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 51
۵۱ ت کے نزدیک محدود صورت میں تسلیم کی گئی ہے۔وہ بھی اسے محدود صورت میں سمجھتے ہیں۔چنانچہ خود مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی "مناظرہ عجیبہ" میں بحث ت کرتے ہوئے مولوی عبد العزیز صاحب کو جس نے آپ کو منکر ختم نبوت کہا تھا۔لکھتے ہیں : " عرض خاصیت زمانی سے یہ ہے کہ دین محمدی بعد ظہور منسوخ نہ ہو معلوم نبوت اپنی انتہا کو پہنچ جائیں۔کسی اور نبی کے دین یا علم کی طرف پھر بنی آدم کو احتیاج باقی نہ رہے“ (منظره عجیبہ منانا) پھر ر پس ان کے نزدیک خاتمیت زمانی کے لحاظ سے وہ مدعی نبوت کا فر ہو گا۔جو دین عمودی کو منسوخ قرار دے اور نیا علم لانے کا مدگی ہو۔پھر وہ صفحہ ۴۰ پر مولوی عبد العزیز صاحب کو یہ نبی لکھتے ہیں "آپ خاتمیت مرتبی مانتے ہی نہیں (خاتمیت ذاتی کو۔ناقل ) خاتمیت زمانی ہی آپ تسلیم کرتے ہیں۔خیر اگر بچہ اس میں در پر وہ انکار فضیلت تامه نبوی صلی اللہ علیہ وسلم لازم آتا ہے لیکن خاتمیت زمانی کو آپ اتنا عام نہیں کر سکتے جتنا ہم نے خاتمیت مرتبی کو عام کر دیا تھا صاف ظاہر ہے کہ مولانا محمد قاسم صاحب کے نزدیک خاتمیت ذاتی وسیع مفہوم رکھتی ہے اور خاتمیت زمانی اس کے بالمقابل محدود مفہوم رکھتی ہے۔یہ خاتمیت ذاتی یا مرتبی کی طرح وسعت نہیں رکھتی۔مولانا محمد قاسم صاحب آنحضرت صلی اللہ ہ علیہ وسلم کو خاتمیت ذاتی کئے لحاظ سے دیوالانبیاء قرار دینے کے بعد آپ کی