بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 50
۵۰ الجواب : مولانا محمد قاسم صاحب کی تحذیر الناس صفحہ ۳ کی عبارت اس بات کو وضاحت سے پیش کر رہی ہے کہ خاتم النبیین کے معنی زمانہ کے لحاظ سے آخری نہ عوام کے معنی ہیں نہ کہ اہل فہم کے۔اور عوام کے معنوں سے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی دوسرے انبیاء پر کوئی فضیلت ذاتی ثابت نہیں ہوتی۔دوسری عبارت خاتمیت محمدی سے متعلق ہے جو خاتمیت ذاتی اور زمانی دونوں پر مشتمل ہے۔پس بالفرض نبی کا آنا نہ ان کے نزدیک خاتمیت ذاتی کے سانی ہے نہ خاصیت زمانی کے خاتمیت زمانی کا علماء کے نزدیک مفہوم یہی رہا ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی مشروع بعدید نہیں لا سکتا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت ذاتی خود اس بات کو مستلزم ہے کہ آپ کو کے بعد کوئی نئی شریعت نہ آئے کیونکہ آپ کے ذریعہ شریعت کی تکمیل ہو گئی ہے ہیں اب کسی نئی شریعت کا آنا خاتمیت ذاتی کے منافی ہوا۔ان معنوں میں خاتمیت دانی خانیت زمانی کو مستلزم ہوئی۔حضرت امام علی القاری رحمتہ اللہ علیہ دین ات کے بعد ہی کی تشریح میں جس سے مولانا محمد قاسم صاحب نے معا نمیت زمانی کا استنباط فرمایا ہے۔لکھتے ہیں۔د لا نبيَّ بَعْدِى مَعْنَاهُ عِنْدَ الْعُلَمَاءِ لَا يَحْدُتُ بشدة ني بِشَرْعِ يَنْسَ شَرْعَة " (الاشاعة فی اشراط الساق نی لانبی بعدی کی حدیث آئی ہے جس کے معنے علماء کے نزدیک جس کہ کوئی نبی ناسخ شریعت پیدا نہیں ہوگا۔میں محمد قاسم صاحب کے نزدیک خاتمیت زمانی علی الاطلاق نہیں بلکہ جس طرح علم اور