بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 48
مولوی لال حسین صاحب اشتر جواب میں لکھتے ہیں : سے نزول عیسی علیہ السلام کے پیش نظر فرمایا ہے۔حضرت مسیح حضور علیہ السلام کے بعد نازل ہوں گے۔کوئی نئی شریعت نہ لائیں گے حضور ہی کی شریعت پر عمل پیرا ہوں گے" الجواب۔ہم بھی تو مسیح موعود علیہ اسلام کی نبوت کے ثبوت میں ہی ان کا یہ قول پیش کر رہے ہیں۔میں ان کے نزدیک خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسیح موعود کا غیر تشریعی نبی کی صورت میں آنا ہمیں اور آپ کو مسلم ہوا۔اور سیح موعود تبھی غیر تشریعی نبی کی صورت میں آسکتے ہیں جبکہ بعد آنحضرت ایسے نبی کے آنے کا امتناع نہ ہو۔پس جس نبوت کا ادعا ان کے نزدیک کفر ہے جس کا ذکر مولوی لال حسین صاحب نے فتوی مولانا عبدالھی لکھنوی جلد صفحہ 99 کے حوالہ سے کیا ہے اس سے مراد ان کی تشریعی نبوت کا ادعا ہی ہوا۔نہ کہ غیر تشریعی نبوت کا۔حضرت مولانا عبد الحی لکھنوی کی ایک اور عبارت بھی مذکورہ بالا حوالہ کی تائید میں پیش خدمت ہے۔آپ " دافع الوسواس فی اثر ابن عباس " میں لکھتے ہیں :- در علماء اہل سنت بھی اس امر کی تصریح کرتے ہیں کہ آنحضرت کے عصر میں کوئی نبی صاحب شرع جدید نہیں ہو سکتا۔اور نبوت آپ کی تمام مکلفین کو شامل ہے اور جو نبی آپ کے ہمعصر ہوگا۔وہ متبع شریعت محمہ ہوگا " دافع الوسواس مدل نیا ایڈیشن وتحذیر الناس) }