بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 38
دیکھا آپ نے امام عبد الوہاب شعرانی علیہ الرحمہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم المرسلین ہونے پر اجماع کے قائل ہو کر بھی آپ کے قدمین شریعت سے مرسلین کے امت محمدیہ میں ہونے کے قائل ہیں۔پس ان کے نزدیک خاتم المسلمین پر خاتم النیتین کی طرح اجماع سے مراد یہی ہے کہ امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ اب کوئی مستقل رسول اور مستقل نبی آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آسکتا۔ہاں نبوت مطلقہ کا ملنا اور مرسلین کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے آنا منقطع نہیں ہوا۔فافهم وتدبره را عارف بانی حضرت عبدالکریم جیلانی عبدالرحمہ کا قول ہمارے ٹریکٹ میں حضرت عارف ربانی سید عبد الکریم جیلانی علیہ الرحمتہ کا یہ قول درج کیا گیا تھا :- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت تشریعی نیند ہو گئی اور آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم خاتم النبیستین قرار پائے۔کیونکہ آپ ایک ایسی کامل شریعت لے آئے جو اور کوئی نبی نہ لایا "۔والانسان الكامل جلد ا عشه مطهر مصر) مولوی لال حسین صاحب اس کے جواب میں لکھتے ہیں۔ا ا حضرت سید عبدالکریم جیلانی کا عقیدہ بھی یہی تھا کہ نبی وہ ہوتا ہے جس پر وحی تشریعی نازل ہو۔اور وحی تشریعی حضور رسالی کے صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی پر نازل نہ ہوگی۔انہوں نے کہیں