بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت

by Other Authors

Page 24 of 64

بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 24

۲۴ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسیح موعود کی نبوت امت محمدیہ میں ظہور کے بعد مبشرات والی غیر تشریعی نبوت ہی ہوگی یا تشریعی نبوت به مسیح موعود کو تشریعی نبی تو مولوی لال حسین صاحب اور ہم احمدی دونوں نہیں مانتے اور نہ مستقل نبی ہی مانتے ہیں۔اس صاف ظاہر ہے کہ مسیح موعود اس حدیث کی موجودگی میں المبشرات والی غیر تشریعی نبوت کی وجہ سے ہی نہی کہلا سکتے ہیں اور المبشرات کی وجہ سے ہی نبی اکرم صلے اللہ علیہ وسلم نے انہیں حدیث میں نبی الله کہا ہے۔تشریعی نبوت تو حدیث لم یينَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَات کے الفاظ " لمين " کی وجہ سے باقی نہیں رہی۔چونکہ بہو جب بعدیث علمائے امت مسیح موعود کو بعد از نزول نبی اللہ تسلیم کرتے ہیں۔لہذا صاف ظاہر ہے کہ مسیح موعود کا غیر تشریعی نبی ہوتا اور نبی اللہ کہلا ناقابل اعتراض نہیں۔بلکہ بموجب حدیث ہذا مسیح موعود مبشرات کو علی وجہ الکمال پانے کی وجہ سے ہی نبی اللہ کہنا سکتا ہے۔درمیانی عرصہ کے بزرگوں نے بھی مبشرات کو ایک حد تک پایا ہے مگر وہ اس وجہ سے نبی نہیں کہلا سکتے کہ خود رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :- أَلَا إِنَّهُ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ بی کہ سُن لو۔میرے اور عیسی موعود کے درمیان کوئی بھی نہیں " (طبرانی) پس ہمارا اور مولوی لال حسین صاحب اختر کا مسیح موعود کے نبی اللہ ہونے پر اتفاق ثابت ہو گیا۔اختلاف ہے تو صرف مسیح موعود کی شخصیت میں سے میسج موعد کا نبی ہونا وہ بھی مانتے ہیں اور ہم بھی۔