بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 14
۱۴ گویا یہ حدیث تین طریقوں سے قوت پانے کے بعد جو بھی حدیث کے مضمون سے بھی قوت پا رہی ہے۔اس خاتم النہرین کے معنے انہوں نے معین کر دیئے ہیں۔اور دو شرطوں کے ساتھ نبوت منقطع قرار دی ہے پہلی شرط یہ ہے کہ کوئی ناسخ شریعت محمدیہ نہیں آسکتا۔دوسری شرط یہ ہے کہ امت محمدیہ سے باہر کوئی نہیں نہیں ہو سکتا۔لہذا اگر صاحبزادہ ابراہیم زندہ رہتے اور نبی ہو جاتے تو وہ آنحضرت صلہ اللہ علیہ وسلم کے تابع یعنی اُمتی نہی ہوتے کیونکہ المتی نہیں خاتم النبیین کے منافی نہیں۔ظاہر ہے ان معنوں سے امام علی القاری علیہ الرحمہ نے ابن عبد البر اور امام نووی وغیرہ کے اس خیال کو رد کر دیا ہے کہ یہ حدیث ضعیت ہے۔اُنی کے نزدیک یہ حدیث معنوی طور سے آیت خاتم النبین کے خلاف نہیں اور بعضی طور پر تین صحابہ کے طریقوں سے مروی ہونے کی وجہ سے صحیح حدیث ہے۔ضعیف نہیں ہے۔بیعادی کے حاشیہ الشہاب علی البیعناوی میں بھی اس حدیث کے متعلق صاحت لکھا ہے : لیا کر الماصحة الحديث فلا شيعة فھا کہ اس حدیث کے صحیح کھنے میں کوئی شبہ نہیں۔علامہ شوکانی اس حدیث کے بارہ میں نوری کے اس خیال کو کہ یہ ہمدریت باطل ہے، یوں رڈ کرتے ہیں :- وهو جيب من النووي لَمَعَ وَرُود با عَنْ ثَلاثَةٍ مِن الصحابة وَكَانَه لَمْ يَظْهَرُ لَهُ تَادِيله ( (۱۲) ) الفوائد المجموعه صفحه