بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت

by Other Authors

Page 47 of 64

بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 47

کے ایک قول کا ترجمہ ہے۔ان معنوں سے یہ ظاہر ہوا کہ حدیث لا نبی بعدی غیر تشریعی نبی کے آنے میں نافع نہیں۔اور یہ بات مولوی لال حسین صاحب اپنے ٹریکٹ میں جیسا کہ پہلے بیان ہوا۔خود مان چکے ہیں۔گو وہ اسے جزء نبوت قرار دیتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ نبوت نہیں۔اگر اقتراب الساعۃ میں حدیث لا نبی بعدی کی یہ تشریح بقول مولوی لال حسین صاحب حضرت عیسی نبی اللہ کی آمد کے پیش نظر ہے کہ وہ نئی شریعت لا کر شریعت اسلامیہ کو منسوخ نہ کریں گے۔خود اسی شریعت کی متابعت کریں گے تو ہم بھی تو یہی کہتے ہیں کہ حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود ہیں اور نبی اللہ ہیں۔اور شریعت محمدیہ کے تابع ہیں۔تشریعی نبی نہیں کہ شریعت اسلامیہ کا کوئی حکم منسوخ کریں۔ہمارا اختلاف خواب صاحب وغیرہ سے صرف مسیح موعود کی شخصیت ہیں ہوا نہ کہ مسیح موعود کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع نبی اور غیر تشریعی امتی نبی ہوتے ہیں۔اصولی طور پر تو مسیح موعود کی نبوت ہم دونوں میں مسلم ہوئی۔کیونکہ ایسی نبوت اہل علم کے نزدیک لانبی بعدی کی حدیث کے منافی نہیں۔مولوی عبد الحی صاد لکھنوی کا قول ہمارے پمفلٹ میں مولانا عبد الحی صاحب کا قول ان الفاظ میں پیش کیا گیا تھا۔بعد آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے با زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرد کسی نبی کا آنا محال نہیں بلکہ نئی شریعیت والا البتہ منع ہے " دافع الوسواس فی اثر ابن عباس نیا ایڈیشن صلا )