بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت

by Other Authors

Page 13 of 64

بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 13

اس کا یہ قول قابل تعجب ہے۔پھر حدیث زیر بحث کے متعلق لکھا ہے :- له طرق ثلاثة يُقرى بَعْضُهَا بِبَ حضي - کہ یہ حدیث تین طریقوں ثَلَاثَةُ سے مروی ہے جن سے یہ حدیث قوت پا رہی ہے۔پس امام علی القاری اس حدیث کو تین صحابہ کے طریقوں سے مروی ہونے کی وجہ سے قومی یعنی صحیح حدیث سمجھتے ہیں اور اس کی یہ تشریح فرماتے ہیں : لَوْ مَاشَ وَصَارَ نَبِيَّا وَكَذَا لَوْ صَارَ عُمَرُ نَبِيَّا لَكَانَا مِنْ رجم اناهِم عَلَيْهِ السَّلاَمُ کہ اگر صاحبزادہ ابراہیم زندہ رہتے اور نہی ہو جاتے اور اسی طرح اگر حضرت عمر نبی ہو جاتے تو وہ دو تو آنحضرت میلے حسد علیہ وسلم کے متبعین میں سے ہوتے۔پھر اس اعتراض کا جواب کہ کیا یہ بات تھا تم نہیں کے خلاف نہیں؟ یوں دیتے ہیں :- فَلاَيْنَا قِضُ قَوْلَهُ تَعَالَى مَا مَا النَّبِيِّنَ إِذَا الْمَعْنَى أَنَّهُ لَا يَات نَبِيُّ بَعْدَهُ يَنْسَهُ مِلتَهُ وَلَمْ يَكُن مِنْ أُمَّتِهِ وَ يُقويهِ حَدِيثُ لَوْ كَانَ مُوسَى حَيَّا لَمَا وَسِعَهُ إِلَّاتَّبَا فِى ( موضوعات کبیر صفحه ۵۸-۵۹) یعنی صاحبزادہ ابراہیم کا ہی ہو جانا آیت خاتم النبین کے خلاف نہ ہوتا کیونکہ خاتم النبین کے یہ معنی ہیں کہ آنحضرت صلے امیر علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرے اور آپ کی اُمت میں سے نہ ہو۔ان معنی کو حدیث نبوی ، اگر موسیٰ زندہ ہوتے تو میری پیروی کے سوا انہیں کوئی چارہ نہ ہوتا بھی قوت دے رہی ہے۔