مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 55
بھی تھے جن میں کوئی مدعی نبوت موجود نہ تھا مگر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے اعلان کے مطابق سب ایسے لوگوں سے جنگ میں یکساں سلوک کیا گیا یعنی انہیں اسیر بنایا گیا اور ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنایا گیا۔مسیلمہ کذاب کے متعلق حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کوئی ایسا خصوصی اعلان نہیں فرمایا تھا کہ اس کے دعوی کنبوت کی وجہ سے اس کے خلاف چڑھائی کی جارہی ہے۔ہمارا چیلنج ہمارا چیلنج ہے کہ اگر مودودی صاحب بچے ہیں تو وہ ایسا مخصوصی اعلان پیش کریں جس سے صحابہ کا اس بات پر اجماع ثابت ہو خواہ سکوتی اجماع ہی ثابت ہو کہ مسیلمہ کذاب پر ہم اُس کے دعوی نبوت کی وجہ سے چڑھائی کر رہے ہیں وہ باغی نہیں۔مید تشریعی نبوت کا مدعی تھا واضح ہو کہ مسیلمہ کذاب تشریعی نبوت کا مدعی تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مد مقابل ہو کر نبوت کا دعوی کر رہا تھا۔لہذا اگر کوئی ایسا اعلان بفرض محال حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے موجود بھی ہوتا تو زیادہ سے زیادہ اس سے یہ استدلال ہوسکتا تھا کہ صحابہ تشریعی نبوت کے دعویٰ کو ختم نبوت کے منافی سمجھتے تھے اس لئے تشریعی نبوت کا دعوی بھی چڑھائی کے موجبات میں سے ایک موجب تھا اور دوسرا موجب اس کی بغاوت تھی۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مسیلمہ کذاب تشریعی نبوت کا مدعی تھا۔چنانچہ نواب صدیق حسن خان لکھتے ہیں :۔”اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بالمقابل تشریعی نبوت کا دعویٰ کیا اور شراب اور زنا کو حلال قرار دیا۔فریضہ نماز کو ساقط کر دیا۔قرآن مجید کے مقابلہ میں 55