مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ

by Other Authors

Page 93 of 108

مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 93

مستبد کے لفظ کی بجائے مستبعد کا لفظ تحریف کر کے لکھدیا ہے تايَبعُدُ التَّوقِّفَ فِي تَكْفِيرِه کا جو غلط ترجمہ انہوں نے کیا ہے اس سے اگلی عبارت کا جوڑ قائم ہو جائے۔پھر اس سے اگلی عبارت فَإِنَّ الْعَقْلَ لا يُحِیلہ کا درست ترجمہ یہ ہے کہ عقل رسول کی آمد کو محال قرار نہیں دیتی۔مگر مودودی صاحب اس کا ترجمہ لکھتے ہیں کیونکہ عقل اس کے عدم جواز کا فیصلہ دیتی ہے 66 مودودی صاحب کے تبدیل کردہ سیاق کے لحاظ سے انکے غلط ترجمہ کا یہ مفہوم بن رہا ہے کہ عقل تکفیر میں توقف کے عدم جواز کا فیصلہ دیتی ہے گویا عقل تکفیر کو جائز قرار دے رہی ہے لیکن اگلی عبارت کا مودودی صاحب کا یہ صیح ترجمہ ” جہاں تک نقل کا تعلق ہے اس عقیدے کا قائل لا نبی بعدی اور خاتم النبیین کی تاویل کرنے سے عاجز نہ ہوگا، اُن کے فَانّ العقل لا یحیلہ کے غلط ترجمہ کو رڈ کر رہا ہے اور صحیح ترجمہ یہ بنتا ہے کہ عقل تو رسول کی آمد کو محال قرار نہیں دیتی ، رہی نقل لا نبی بعدی اور خاتم النبیین کے الفاظ سوان کی تاویل میں ایسا شخص عاجز نہیں ہوگا جو رسول کی آمد کے جواز کا قائل ہے اور چونکہ تاویل کرنے والے کی تکفیر نہیں کی جاسکتی اور عقلاً بھی رسول کا آنا محال نہیں اس لئے رسول کی آمد کو محال ثابت کرنے والا اُس شخص کی تکفیر کے لئے اجماع امت کو پیش کرے گا جس کے حجت ہونے کے بارہ میں امام موصوف بہت سے شبہات قرار دے چکے ہیں۔چنانچہ آگے اس شخص کی تاویلات پیش کر کے مودودی صاحب کے ترجمہ کے مطابق امام غزالی بتاتے ہیں۔محض لفظ کے اعتبار سے ہم ایسی تاویلات کو محال نہیں سمجھتے جبکہ ظواہر تشبیہہ کی تاویل میں ہم اس سے بھی زیادہ بعید احتمالات کی گنجائش مانتے ہیں اور اس طرح کی تاویلیں کرنے والے کے متعلق ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ نصوص کا انکار کر رہا ہے“ پس مودودی صاحب کے اس ترجمہ سے بھی ثابت ہے کہ امام غزالی علیہ الرحمہ نص کی 93