مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 85
کہ اس میں کسی تاویل و تخصیص کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔اب جو شخص اس کی تاویل کر کے اسے کسی خاص معنی کے ساتھ مخصوص کرے اس کا کلام محض بکواس ہے اس پر تکفیر کا حکم لگانے میں کوئی امر مانع نہیں ہے کیونکہ وہ اس نص کو جھٹلا رہا ہے جس کے متعلق تمام امت کا اجماع ہے“ (رسالہ ختم نبوت صفحہ ۲۴-۲۵) ہم نے اپنے جوابی رسالہ ”علمی تبصرہ “ میں لکھا تھا:۔جن الفاظ پر ہم نے خط کھینچ دیا ہے یہ الفاظ امام غزالی پر سراسر افتراء ہیں کیونکہ ان کی کتاب الاقتصاد صفحہ ۱۴ - ۱۱۳ پر ہرگز ایسے الفاظ موجود نہیں۔جن کا ترجمہ یہ الفاظ ہوسکیں۔( علمی تبصرہ صفحہ ۴۹) اس جگہ ہم نے مودودی صاحب سے سوال نمبر ۱۰ کے ذیل میں لکھا تھا:۔کیا مودودی صاحب یا ان کے حامیوں میں یہ جرات ہے کہ وہ خط کشیدہ عبارت مودودی صاحب کے پیش کردہ الفاظ میں الاقتصاد سے دکھا سکیں؟ ہرگز نہیں۔ہرگز نہیں۔ولو كان بَعْضُهُم لِبَعْضٍ ظَهِيرًا - چونکہ ہماری طرف سے یہ پر زور چیلنج تھا کہ مودودی صاحب امام غزالی علیہ الرحمتہ کی طرف منسوب کردہ خط کشیدہ عبارت الاقتصاد سے دکھا ئیں۔اور ہم نے متحدی سے کہا تھا کہ وہ ہرگز ایسا نہیں کر سکتے۔لہذا مو دودی صاحب نے اس کے بعد اپنے اس رسالہ ختم نبوت کا مضمون اپنی تفسیر تفہیم القرآن میں سورۃ احزاب کی تفسیر کے ساتھ بطور ضمیمہ شائع کرتے ہوئے امام غزالی علیہ الرحمہ کی طرف منسوب کردہ عبارت درج کرنے کی بجائے الاقتصاد کی اصل عبارت درج کر دی ہے مگر اس میں وہ خط کشیدہ فقرات موجود نہیں جو مودودی صاحب نے رسالہ ختم نبوت اور تحقیقاتی کمیشن کے سامنے اپنے پیش کردہ بیان میں درج کئے تھے اب مودودی صاحب کے اصل عبارت کو الاقتصاد سے پیش کرنے سے ظاہر ہو گیا کہ ان کی محترفہ عبارت الاقتصاد میں موجود 85