مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ

by Other Authors

Page 67 of 108

مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 67

ہیں کہ ” جب وہ (حضرت عیسی علیہ السّلام) بتائیں گے کہ میں نے تو اپنے پیروؤں کے لئے سور حلال نہیں کیا تھا اور نہ شریعت کی پابندی سے آزاد ٹھہرایا تھا تو عیسائیت کی دوسری امتیازی خصوصیت کا بھی خاتمہ ہو جائے گا“ (رساله ختم نبوت صفحه ۴۰) یعنی اس طرح صلیب کا توڑنا ظاہری طور پر نہ ہوگا اور مسیح موعود ظاہری طور پر خنزیر کو قتل نہیں کرے گا بلکہ عیسائیوں کو اس کا گوشت کھانے کے لئے مارنے سے روک دینا حضرت مسیح کے سؤروں کو قتل کرنے سے تعبیر کیا گیا ہے گویا مودودی صاحب نے ان الفاظ کو استعارہ مان لیا ہے۔سوال ۱۸ لہذا اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب حدیث کے ایک حصہ کو انہوں نے استعارہ مان لیا ہے تو کیوں اس کے دوسرے حصہ یعنی عیسی ابن مریم علیہ السلام کے فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے دمشق کے مینارہ کے پاس آسمان سے اتر نے اور دجال کو حربہ کے ساتھ قتل کرنے کے الفاظ حدیث کو ایک مثیل مسیح کے آسمانی تائید کے ساتھ آنے اور دلیل کے حربہ کے ساتھ درقبال کی تحریک کو مٹانے کے لئے استعارہ یقین نہ کیا جائے؟ (ج) مودودی صاحب فرماتے ہیں:۔حیات مسیح اور رفع الی السماء قطعی طور پر ثابت نہیں۔قرآن کی مختلف آیات سے یقین پیدا نہیں ہوتا“ ( تقریر مودودی صاحب اچهر ه ۲۸ مارچ ۱۹۵۱ به ماخوذ از آئینه مودودیت) 67