مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 66
برس کی تاریخ نے یہ ثابت نہیں کر دیا کہ حضور کا اندیشہ صحیح نہیں تھا۔اب ان چیزوں کو اس طرح نقل و روایت کئے جانا کہ گویا یہ بھی اسلامی عقائد ہیں نہ تو اسلام کی صحیح نمائندگی ہے اور نہ ہی اسے حدیث کا صحیح فہم کہا جا سکتا ہے“ رساله ترجمان القرآن فروری ۱۹۴۱ ورسائل و مسائل صفحه ۵۷) اس بیان پر ذیل کے سوال پیدا ہوتے ہیں:۔سوال ۱۶ جب دقبال کے متعلق روایات مودودی صاحب کے نزدیک مشکوک تھیں تو انہوں نے ان روایات کو کس سیاسی غرض کے ماتحت نقل کیا ہے کیونکہ مذہبی لحاظ سے تو بقول ان کے ان کا نقل و روایت کرتے جانانہ اسلام کی صحیح نمائندگی ہے اور نہ حدیث کا صحیح فہیم ؟ سوال ۱۷ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ نہیں بتایا گیا کہ دقبال کب اور کہاں ظاہر ہوگا “ تو مودودی صاحب نے کیوں اس مضمون میں یہ یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ دجال موعودہ ریاست فلسطین کے یہودیوں میں سے مسیح موعود کا دعوی کر کے کھڑا ہوگا اور پھر دمشق میں خروج کرے گا۔حالانکہ تمیم داری کی روایت سُن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دقبال کے متعلق فرما چکے ہیں کہ وہ مشرق سے ظاہر ہو گا اور دمشق مدینہ منورہ سے مشرق میں نہیں ؟ (ب) مودودی صاحب دجال اور مسیح بن مریم کے نزول کے متعلق احادیث کے الفاظ يكسر الصلیب کو ظاہری معنوں میں نہ لے کر ان کی اپنے رسالہ میں یہ تعبیر کرتے ہیں کہ عیسائیت الگ دین کی حیثیت میں ختم ہو جائیگی ( ختم نبوت صفحہ ۴۰) اور حدیث کے الفاظ يَقْتُلُ الْخِنزیر کے ظاہری معنے ترک کر کے ان کی یہ تعبیر کرتے 66