مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ

by Other Authors

Page 48 of 108

مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 48

ہے جس کے معنی کوئی عقلمند محض آخری ولی محض آخری فقیہہ یا محض آخری محدث یا محض آخری شاعر نہیں لیتا۔ایک شاعر کہتا ہے۔ہے۔فُعَ الْقَرِيْضُ بِخَاتَمِ الشُّعَرَاءِ وَخَدِيْرِ رَوْضَتِهَا حَبِيبِ الطائي یعنی شعر خاتم الشعراء اور اس کے باغ کے تالاب حبیب الطائی کی وفات سے دردمند ہو گیا اس جگہ خاتم الشعراء کے معنی آخری شاعر نہیں کیونکہ یہی شعر کہنے والا خود بھی شاعر ہے جو اس وقت زندہ موجود تھا۔اسی طرح خاتم الاولیاء کے معنے ہیں ایسا کامل ولی جس کے اثر اور فیض سے ولی پیدا ہوں اور خاتم الفقہاء اور خاتم المحدثین وہ اشخاص ہوں گے جن کے اثر اور فیض سے فقیہ اور محدث پیدا ہوں اور خاتم الشعراء کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ ایسا با کمال شاعر ہے کہ جس کے اثر سے شاعر پیدا ہو سکتے ہیں۔یہ معنی لفظ ختم کے مصدری لغوی معنی کے لحاظ سے ہیں اور افضلیت کے معنی ان معنوں کے بالتنج پیدا ہوتے ہیں اور ان حقیقی معنی کولازم ہوتے ہیں اور خاتم النبیین میں آخریت کے معنی صرف اس حد تک مسلم ہوں گے جو ان حقیقی معنی سے اختلاف نہ رکھیں اور ان کے متضاد نہ ہوں اور ان کے ساتھ جمع ہوسکیں محض آخری نبی کے معنے چونکہ مجازی معنی ہیں اور خاتم النبیین کے مصدری حقیقی لغوی معنی سے تضاد رکھتے ہیں اس لئے ان کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔ہاں آخری شارع اور آخری مستقل نبی ان معنوں کے ساتھ جمع ہو سکتے ہیں کیونکہ جب دنیا میں ایک ہی فرد حقیقی خاتم النبیین ہے تو ضروری ہے کہ وہ آخری شارع اور مستقل نبی بھی ہو۔اور آئندہ نبوت صرف اس کی پیروی اور فیض کے واسطہ سے مل سکے نہ کہ براہ راست اور اس کے فیض سے 48