مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 32
وہ پکا کا فر ہے جیسا کہ امام جلال الدین سیوطی نے اس کی وضاحت کی ہے۔پھر وہ لکھتے ہیں :۔فَهُوَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَإِنْ كَانَ خَلِيفَةً فِي الْأُمَّةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ فَهُوَ رَسُولُ وَنَبِيُّ كَرِيمٌ عَلَى حَالِهِ ( حجج الکرام صفحه ۴۲۶) یعنی اگر چہ عیسی علیہ السلام اس امت میں خلیفہ ہوں گے مگر وہ اپنے پہلے حال پر نبی اور رسول بھی ہوں گے۔حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن العربی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں :۔عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ يَنْزِلُ فِيْنَا حَكَمًا مِنْ غَيْرِ تَشْرِيعِ وَهُوَ نَبِيُّ بِلا شَكٍ۔(فتوحات مکیہ جلد اوّل صفحه ۵۷۰) یعنی عیسی علیہ السلام ہم میں حکم کی حیثیت میں بغیر شریعت کے نازل ہوں گے اور وہ بلا شک نبی ہوں گے۔ہاں حضرت محی الدین ابن العربی یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں:۔ہے:۔وَجَبَ نُزُولُهُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ يَتَعَلَّقِهِ بِبَدَنِ أَخَرَ ( تفسیر محی الدین ابن العربی برحاشیہ عرائس البیان صفحه ۲۶۲) کہ حضرت عیسی کا نزول آخری زمانہ میں کسی اور بدن یعنی وجود سے متعلق ہوگا۔یعنی حضرت عیسی علیہ السلام اصالتا نہیں بلکہ بروزی طور پر آئیں گے۔صوفیاء کے ایک گروہ کا یہی مذہب چلا آیا ہے جیسا کہ اقتباس الانوار صفحہ ۵۲ پر بھی لکھا بعض بر آنند که روح عیسی در مهدی بروز کند و نزول عبارت از ہمیں بروز 32