مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 96
سابق نبی کی حیثیت میں مسیح کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنے کے قائل ہیں کیونکہ حدیث لا نبی بعدی میں لاننی جنس کا ہے جو اپنے عام معنوں کے لحاظ سے علی الاطلاق نئے اور پرانے نبی کی آمد میں روک ہوگا۔پس خاتم النبیین اور لا نبی بعدی کی موجودگی میں پرانے نبی کی آمد کا جواز نکالنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علی الاطلاق آخری نبی ہونے کے منافی ہے۔اس لئے علماء کے لئے حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد کی صورت میں ان نصوص کی تاویل و تخصیص کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔لا نبی بعدی کی تاویل علماء نے یہ کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شارع نبی نہیں آسکتا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو منسوخ کرے لہذا حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد میں لا نبی بعدی کی حدیث روک نہیں۔کیونکہ وہ بقول ان علماء کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے تابع ہو کر آئیں گے اور آپ کے امتی ہونگے۔یہ اگر تاویل تخصیص نہیں تو اور کیا ہے۔اس جگہ یا تو لا نبی بعدی میں نبی کے عموم کو خاص مفہوم دے کر توڑا گیا ہے۔یا لفظ نبی کی تاویل تشریعی نبی کی گئی ہے۔یہی حال خاتم النبیین کے معنی مطلق آخری نبی ترک کر کے تاویل و تخصیص سے حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد کا جواز نکالنے کا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہونے میں آخری نبی ہیں یا شریعت لانے میں آخری نبی ہیں۔یہ معنی النبیین کے عموم کی سراسر تخصیص ہیں۔پس یہ سب تاویل و تخصیص کرنے والے بموجب فتویٰ مودودی صاحب کا فرقرار پائے اور خود مودودی صاحب بھی اپنے اس فتوی کی زد میں ہیں۔اصل حقیقت یہ ہے کہ امت کا اجماع صرف اس بات پر ہوا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی تشریعی اور مستقل نبی نہیں آسکتا امت محمدیہ میں مسیح موعود نبی اللہ غیر تشریعی نبی ہوگا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی بھی۔اس اجماع میں جماعت احمدیہ شریک ہے۔ہمیں اختلاف زمانہ حال کے علماء سے مسیح موعود کی صرف شخصیت میں ہے اس کے اس منصب 96