مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ

by Other Authors

Page 54 of 108

مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 54

اس بناء پر اُس پر چڑھائی نہ کی تو حضرت ابو بکر اور صحابہ کرام اس بناء پر اُس پر کیسے چڑھائی کی جرات کر سکتے تھے۔مودودی صاحب کا یہ بیان اسلامی تاریخ کے سراسر خلاف ہے اور انہوں نے تاریخی حقائق کو چھپانے کی کوشش کی ہے ورنہ اصل حقیقت یہ ہے کہ مسلمہ باغی تھا اور اس کے ساتھی حربی مرتد تھے یعنی اسلامی اسٹیٹ (حکومت) کی بغاوت کے جُرم کے مرتکب ہو چکے تھے اس لئے ان سے محارب کفار کا سا سلوک کیا گیا نہ کہ مسلمان باغیوں کا سا۔چنانچہ تاریخ طبری مترجم اردو مطبوعہ حیدر آباد دکن کے حصہ اول جلد چہارم کے چند کوائف ملاحظہ ہوں :- (۱) مسیلمہ نے بغاوت کی تھی (۲) چالیس ہزار کا لشکر جرار تیار کیا تھا (صفحه ۹۳) (صفحہ اے) (۳) اس نے کہا کہ میں اپنی اور سجاح کی فوج کے ساتھ تمام عرب پر قبضہ کروں گا (صفحہ اے) (۴) اسلامی حکومت کے اندر یمامہ میں خود خراج وصول کرتا تھا ( صفحہ اے) (۵) علاوہ ازیں تاریخ الخمیس جلد ۱ صفحہ ۱۷۷ پر لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اس نے حجر و یمامہ سے آپ کے مقرر کردہ والی ثمامہ بن اثال کو نکال دیا تھا اور خود ان کا حاکم بن گیا تھا۔پس صحابہؓ نے مسیلمہ کذاب اور اس کے قبیلہ بنو حنیفہ کے خلاف محض ارتداد کی بناء پر جنگ نہیں کی بلکہ بغاوت کے جرم کی وجہ سے جنگ کی تھی کیونکہ مسیلمہ باغی تھا اور بوحنیفہ محض مرتد نہ تھے بلکہ حربی مرتد تھے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اُس وقت جن قبائل عرب سے لڑائی کا حکم دیا ان میں ایسے قبائل 54