مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 52
الانبیاء قرار دیا ہے کہ آپ کے مقابل میں کوئی نبی نہیں آسکتا مگر آپ کے تابع نبی آسکتا ہے جس کی وہی شریعت ہو جو آپ کی شریعت ہے۔مودودی صاحب تین مسجدوں مسجد الحرام، مسجد اقصیٰ اور مسجد نبوی میں عبادت کے زیادہ ثواب پر مذکور حدیثوں کا ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :۔حضور کے ارشاد کا منشاء یہ ہے کہ اب چونکہ میرے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے اس لئے میری اس مسجد کے بعد دنیا میں کوئی چوتھی مسجد ایسی بنے والی نہیں ہے جس میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مسجدوں سے زیادہ ہو اور جس کی طرف نماز کی غرض سے سفر کر کے جانا درست ہو (رسالہ ختم نبوت صفحہ ۲۰ حاشیہ) جب مودودی صاحب کے نزدیک "آخر المساجد“ کا یہ مطلب ہے کہ ایسی کوئی مسجد نہ بنے گی جس میں عبادت کا ثواب مسجد نبوی سے زیادہ ہو تو اس لحاظ سے ”آخر الانبیاء“ کے یہ معنے ہوئے کہ اب ایسا کوئی نبی نہیں ہوگا جس کا درجہ نبوت اور شانِ نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درجہ سے بڑا ہو۔پس جس طرح مسجد نبوی کے بعد کی مساجد ثواب عبادت میں مسجد نبوی سے کم درجہ کی ہوں گی ، اُسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو نبی آئے گا وہ آپ سے کم درجہ کا ہوگا۔اسی لئے احادیث نبوی میں مسیح موعود کو نبی اللہ بھی قرار دیا گیا ہے اور امتی بھی۔سوال ۱۲ مودودی صاحب بتا ئیں کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان معنوں میں آخر الانبیاء تھے کہ آپ مطلق آخری نبی ہیں تو آپ نے مسیح موعود کو کیوں نبی اللہ قرار دیا۔اور اوپر کی تین حدیثوں میں اپنے بعد کیوں امکان نہیں تسلیم فرمایا؟ 52