مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 38
امت کو درست تسلیم کرتی ہے اور اس اجماع میں شریک ہے اور شارع نبی کی آمد کا کسی تاویل و تخصیص کے ساتھ جو از منافی ختم نبوت یقین کرتی ہے۔آیت خاتم النبیین کی تفسیر اللہ تعالیٰ نے سورہ احزاب میں فرمایا ہے۔مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ، وَكَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا۔یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کی مہر ہیں اور اللہ ہر شے کو جاننے والا ہے۔مودودی صاحب اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں :۔یہ آیت سورہ احزاب کے پانچویں رکوع میں نازل ہوئی ہے اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے کفار و منافقین کے اعتراضات کا جواب دیا ہے جو حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے سید نا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح پر طعن و تشنیع اور بہتان و افتراء کے طوفان اُٹھا رہے تھے۔۔۔ان کا اولین اعتراض یہ تھا کہ آپ نے اپنی بہو سے نکاح کیا ہے حالانکہ آپ کی اپنی شریعت میں بھی بیٹے کی منکوحہ باپ پر حرام ہے۔اس کے جواب میں فرمایا گیا مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ "محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، یعنی جس شخص کی مطلقہ سے نکاح کیا گیا ہے وہ بیٹا تھا کب کہ اس کی مطلقہ سے نکاح حرام ہوتا۔تم لوگ تو خود جانتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا سرے سے کوئی بیٹا ہے ہی نہیں“ 38