مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 22
نبوت کے لئے اسلام میں دو اصطلاحیں ہیں۔مکرم مولوی سید محمد حسن صاحب امروہی اپنی کتاب کواکب دریہ میں لکھتے ہیں:۔ہیں :- اصطلاح میں نبوت بخصوصیت الہیہ خبر دینے سے عبارت ہے اور وہ دو قسم کی ہے۔ایک نبوت تشریعی جو ختم ہوگئی۔دوسری نبوت بمعنی خبر دادن ہے اور وہ غیر منقطع ہے۔پس اس کو مبشرات کہتے ہیں اپنے اقسام کے ساتھ “ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا پہلی قسم کا دعوی نہیں بلکہ دوسری قسم کا ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ”میری مراد نبوت سے یہ نہیں ہے کہ میں نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر کھڑا ہو کر نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں یا کوئی نئی شریعت لایا ہوں۔صرف مراد میری نبوت سے کثرت مکالمت و مخاطبت الہیہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے حاصل ہے۔سو مکالمہ مخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی یعنی آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ مخاطبہ رکھتے ہیں میں اس کی کثرت کا نام بحکم الہی نبوت رکھتا ہوں (تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۶۵) (ب) مودودی صاحب اپنے رسالہ ختم نبوت میں آنے والے مسیح کے متعلق روایات درج کرنے کے بعد لکھتے ہیں :- اس مقام پر یہ بحث چھیڑنا بالکل لا حاصل ہے کہ وہ ( یعنی حضرت مسیح ناصری۔ناقل ) وفات پاچکے ہیں یا زندہ موجود ہیں۔بالفرض وہ وفات ہی پاچکے ہوں تو اللہ انہیں زندہ کر کے اُٹھا لانے پر قادر ہے (ختم نبوت صفحہ ۵۴) حضرت عیسی علیہ السلام کی حیات و وفات کی بحث اس موقع پر لا حاصل نہیں بلکہ از بس ضروری ہے کیونکہ حضرت عیسی علیہ السّلام کو وفات یافتہ یقین کرنے کی وجہ سے جماعت احمدیہ 22