مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 94
تاویل کرنے والے کو نص کا مکذب نہیں جانتے کہ اس کی تکفیر جائز ہو۔کیونکہ امام غزالی اس سے پہلے وضاحت سے الاقتصاد میں لکھ چکے ہیں کہ وہ کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھنے والے فرقوں کو جو کسی نص کی تاویل کریں نص کا مکذب قرار دے کر کافر نہیں ٹھہراتے۔اس کے بعد کی عبارت میں امام غزالی علیہ الرحمة لكن الردُّ عَلى هَذا القائل س لے کر فمنكر لهذا لا يكون إلا منكر الإجتماع تک یہ بیان فرما رہے ہیں کہ اس بحث میں رسول کی آمد کے قائل کی تردید میں رسول کی آمد کو محال قرار دینے والا بحث کنندہ یہی کہے گا کہ امت نے بالا تفاق اس لفظ یعنی لا نبی بعدی اور خاتم النبیین سے یہ سمجھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ تھا کہ آپ کے بعد کبھی کوئی نبی نہیں آئے گا۔اور نہ کبھی رسول آئے گا اور اس میں کوئی تاویل اور تخصیص نہیں۔سو اس صورت میں اس امر کا انکار کرنے والا صرف اجماع کا منکر ہوگا۔اب اجماع کے منکر کے متعلق امام غزالی علیہ الرحمہ محولہ عبارت سے پہلے بتا چکے ہیں کہ اس کے حجت ہونے میں بہت سے شبہات ہیں۔اور اس کو حجت قرار دے کر اس کا انکار کرنے والے کی تکفیر جائز نہیں کیونکہ ہمیں تو نظام معتزلی کی تکفیر پر بھی اسی وجہ سے اعتراض ہے جو سرے سے اجماع کے وجود کا منکر ہے۔پس مودودی صاحب اس عبارت سے یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ امام غزالی علیہ الرحمہ کے نزدیک خاتم النبیین اور لا نبی بعدی کی تاویل کرنے والا اجماع کا منکر ہونے کی وجہ سے کافر ہوگا اور اس کی تکفیر میں تامل جائز نہیں ہو گا مگر یہ نتیجہ وہ ان کی عبارت کے سیاق میں لفظی اور معنوی تحریف سے نکال رہے ہیں۔حالانکہ امام غزالی علیہ الرحمتہ کی محولہ عبارت سے یہ نتیجہ نکالنا مودودی صاحب کا امام موصوف پر افتراء عظیم ہے۔پہلے مودودی صاحب نے رسالہ ختم نبوت میں اور تحقیقاتی کمیشن کے سامنے بیان میں ان کی محولہ عبارت میں خطر ناک تحریف 94