مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ

by Other Authors

Page 86 of 108

مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 86

نہ تھی۔اور یہ محرفہ عبارت رسالہ ختم نبوت اور تحقیقاتی کمیشن کے سامنے اپنے بیان میں درج کر کے مودودی صاحب نے پبلک اور عدالت کو محترفہ عبارت امام غزالی علیہ الرحمتہ کی طرف منسوب کر کے دھوکا دیا تھا۔ضمیمہ تفہیم القرآن میں الاقتصاد کی اس عبارت کو درج کرتے ہوئے مودودی صاحب نے اس کے صفحہ ۱۴۶ پرفٹ نوٹ میں لکھا ہے:۔”امام غزالی کی اس رائے کو ہم ان کی اصل عبارت کے ساتھ اس لئے نقل کر رہے ہیں کہ منکرین ختم نبوت نے اس حوالہ کی صحت کو بڑے زور شور سے چیلنج کیا ہے اس عبارت سے مودودی صاحب یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ الاقتصاد سے اصل عبارت پیش کر کے گویا انہوں نے ہمارے اس چیلنج کو غلط ثابت کر دیا ہے جو ہماری طرف سے بڑے زور شور سے کیا گیا تھا۔وہ ہمیں منکرین ختم نبوت قرار دینے میں تنابز بالا لقاب سے کام لے رہے ہیں کیونکہ جماعت احمد یہ آیت خاتم النبیین کے اجماعی معنوں کو تسلیم کرتی ہے۔کیونکہ امت محمدیہ کا اجماع خَاتَمُ النَّبِيِّين اور حدیث لا نبی بعدی کے معنوں پر اگر قرار دیا جائے تو اس کا مفہوم علمائے امت کے نزدیک صرف یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی تشریعی اور مستقل نبی نہیں آسکتا۔اور یہی عقیدہ جماعت احمدیہ کا ہے۔پس اگر مودودی صاحب جماعت احمدیہ کو منکرین ختم نبوت قرار دیں تو انہیں ان سب بزرگوں کو منکرین ختم نبوت قرار دینا پڑے گا جن کی عبارتیں ہم قبل ازیں اس رسالہ میں نقل کر چکے ہیں۔میں بہر حال مودودی صاحب نے ضمیمہ سورۂ احزاب میں امام غزالی کا جوحوالہ نقل کیا ہے اس ان الامة فهمت بالاجماع من هذا اللفظ انه افهم عدم النبى بعده ابدا وعدم رسول بعده و انہ لیس فیہ تاویل ولا تخصیص 86