مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ

by Other Authors

Page 65 of 108

مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 65

میں جب طرف سے اس معاملہ میں جو علم ملا تھاوہ صرف اسی حد تک تھا کہ ایک بڑا د قبال ظاہر ہونے والا ہے اور اس کی یہ اور یہ صفات ہوں گی اور وہ ان خصوصیات کا حامل ہوگا لیکن آپ کو نہیں بتایا گیا کہ وہ کب ظاہر ہوگا اور کہاں ظاہر ہوگا اور یہ کہ آیا وہ آپ کے عہد میں پیدا ہو چکا ہے یا آپ کے بعد کسی بعید زمانہ میں پیدا ہونے والا ہے۔ان امور کے متعلق جو مختلف باتیں حضور سے احادیث میں منقول ہیں وہ دراصل آپ کے قیاسات ہیں جن کے بارے میں آپ خود شک میں تھے کبھی آپ نے یہ خیال ظاہر فرمایا کہ دقبال خراسان سے اٹھیگا۔کبھی یہ کہ اصفہان سے اور کبھی یہ کہ شام و عراق کے درمیانی علاقہ سے آخری روایت یہ ہے کہ اھ فلسطین کے ایک عیسائی راہب ( تمیم داری ) نے آکر اسلام قبول کیا اور آپ کو قصہ سنایا کہ ایک مرتبہ وہ سمندر میں ( غالباً بحیرہ روم یا بحر عرب ) سفر کرتے ہوئے ایک غیر آباد جزیرے میں پہنچے اور وہاں ان کی ملاقات ایک عجیب شخص سے ہوئی۔اور اس نے انہیں بتایا کہ وہ خود ہی دجال ہے۔تو آپ نے ان کے بیان کو بھی غلط باور کرنے کی کوئی وجہ نہ سمجھی البتہ اس پر اپنے شک کا اظہار فرما دیا کہ اس بیان کے رو سے دقبال بحر روم یا بحر عرب میں ہے مگر میں خیال کرتا ہوں کہ وہ مشرق سے ظاہر ہوگا۔یہ تر ڈ داوّل تو خود ظاہر کرتا ہے کہ یہ باتیں آپ نے وحی کی بنا پر نہیں فرمائی تھیں اور آپ کا گمان وہ چیز نہیں ہے جس کے صحیح نہ ثابت ہونے سے آپ کی نبوت پر کوئی حرف آتا ہو یا جس پر ایمان لانے کے لئے ہم مکلف کئے گئے ہوں حضور کو اپنے زمانہ میں یہ اندیشہ تھا کہ شاید دجال آپ کے عہد میں ظاہر ہو جائے یا آپ کے بعد کسی قریبی زمانہ میں ظاہر ہولیکن کیا ساڑھے تیرہ سو 65