مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 53
نوٹ :۔مودودی صاحب کی انقطاع نبوت پر پیش کردہ باقی احادیث کا اصولی جواب ہم امت کے مسلمہ آئمہ دین اور اولیائے امت اور فقہائے ملت کے اقوال سے دے چکے ہیں تفصیلی جواب رسالہ الفرقان اپریل مئی ۱۹۶۲ء کے خاتم النبیین نمبر یا نشر و اشاعت کے رسالہ القول المبین فی تفسیر خاتم النبیین “ میں ملاحظہ فرمائیں۔اس میں مفسرین کے اقوال کے متعلق بھی مفصل بحث درج ہے۔مسیلمہ کذاب سے لڑائی کی وجہ مودودی صاحب صحابہ کرام کے اجماع کے عنوان کے ماتحت اپنے رسالہ کے صفحہ ۳۳ پر لکھتے ہیں:۔صحابہ نے جس جرم کی بناء پر اُن (مسیلمہ اور اس کے ساتھیوں۔ناقل ) سے جنگ کی تھی وہ بغاوت کا جرم نہ تھا بلکہ یہ جرم تھا کہ ایک شخص نے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا اور دوسرے لوگ اس کی نبوت پر ایمان لائے۔یہ کارروائی حضور کی وفات کے فورابعد ہوئی ہے۔ابوبکر صدیق کی قیادت میں ہوئی ہے اور صحابہ کی پوری جماعت کے اتفاق سے ہوئی۔اجماع صحابہ کی اس سے زیادہ صریح مثال شاید ہی کوئی ہو۔“ (رساله ختم نبوت صفحه ۲۳) مودودی صاحب کا یہ دعوی سراسر بے بنیاد ہے کیونکہ صحابہ نے جس جرم کی بناء پر مسیلمہ کذاب سے جنگ کی وہ یقیناً بغاوت کا مجرم تھا نہ کہ دعوی نبوت کا جرم۔مسیلمہ کذاب نے دعوی نبوت تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کر رکھا تھا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے 53