مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ

by Other Authors

Page 39 of 108

مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page 39

مودودی صاحب کا بیان یہاں تک بالکل درست ہے۔مگر آگے وہ لکھتے ہیں :۔ان کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ اچھا اگر منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں ہے جب بھی اس کی چھوڑی ہوئی عورت سے نکاح کر لینا زیادہ سے زیادہ بس جائز ہی ہو سکتا تھا آخر اس کا کرنا کیا ضرور تھا۔اس کے جواب میں فرمایا گیا۔وَلكِن رَّسُولَ اللہ مگر وہ اللہ کے رسول ہیں یعنی ان کے لئے ضروری تھا کہ جس حلال چیز کو تمہاری رسموں نے خواہ مخواہ حرام کر رکھا ہے اس کے بارے میں تمام تعصبات کا خاتمہ کر دیں اور اس کی حلت کے معاملہ میں کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہنے دیں۔پھر مزید تاکید کے لئے فرمایا۔وَخَاتَمَ النَّبِین یعنی ان کے بعد کوئی رسول تو در کنار کوئی نبی تک آنے والا نہیں ہے کہ اگر قانون اور معاشرے کی کوئی اصلاح ان کے زمانے میں نافد ہونے سے رہ جائے تو بعد کا آنے والا نبی یہ کسر پوری کر دے لہذا یہ اور بھی ضروری ہو گیا تھا کہ اس رسم جاہلیت کا خاتمہ وہ خود ہی کر کے جائیں“ (رساله ختم نبوت صفحه ۷،۶) یہ دوسرا اعتراض جو کفار و منافقین کی طرف سے آیت مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ پر وارد ہونا مودودی صاحب نے بیان کیا ہے اس کا چونکہ کوئی تاریخی ثبوت مودودی صاحب کے پاس نہ تھا اس لئے رسالہ ختم نبوت کے حاشیہ میں اسے سیاق کلام سے ماخوذ قرار دیا ہے مگر آج تک کسی مفتر کا ذہن سوائے مودودی صاحب کے مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ سے یہ اعتراض پیدا ہونے کی طرف منتقل نہیں ہوا۔بلکہ یہ سوال آیت مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ سے صرف مودودی صاحب کے ذہن کی پیداوار ہے حالانکہ اگلے الفاظ وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِین در اصل اس سوال کا جواب بن ہی نہیں 39