مولوی مودودی صاحب کے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پر علمی تبصرہ — Page v
عالی مرتبت علامہ محمود اشلتوت جواز ہر کی دینی یو نیورسٹی کے ریکٹر ہیں لکھتے ہیں:۔قرآن کریم اور صحیح و مستند احادیث میں ہمیں ہرگز کوئی ثبوت نہیں ملتا جس پر ہم اس عقیدے کی بنیاد رکھ سکیں کہ عیسی علیہ السلام مادی جسم کے ساتھ آسمان پر اُٹھائے گئے اور وہ اب تک بقید حیات موجود ہیں اور اس وقت تک زندہ رہیں گے جب تک وہ آخری زمانہ میں زمین پر نہ آجائیں“ (مجلة الازهر فروری ۱۹۶۰) علامہ محمود الشلتوت سے پہلے مفتی دیار مصریہ علامہ رشید رضا مرحوم فرما چکے ہیں:۔حضرت عیسی علیہ السلام کا ہندوستان میں ہجرت کر کے وہاں وفات پا جانا عقل و نقل کے خلاف نہیں“ (رساله المنار جلد ۱۵ صفحه ۹۰۱٬۹۰۰) علامہ اقبال فرماتے ہیں :۔احمدیوں کا عقیدہ کہ حضرت عیسی علیہ السلام ایک فانی انسان کی طرح وفات پاچکے ہیں اور ان کی دوبارہ آمد کا مطلب یہ ہے کہ رُوحانی لحاظ سے ان کا مثیل آئے گا کسی حد تک معقولیت کا پہلو لئے ہوئے ہے“ مودودی صاحب کو دعوت آزاد ۶ را پریل ۱۹۵۱ به تحریک احمدیت و ختم نبوت) مودودی صاحب اپنے رسالہ میں حضرت عیسی علیہ السلام کے مادی جسم کے ساتھ آسمان سے اُترنے کی امید دلاتے ہیں۔آسمان سے مادی جسم کے ساتھ انتر نا تبھی ممکن ہے کہ پہلے ان کا مادی جسم کے ساتھ آسمان پر جانا ثابت ہو اور وہ آسمان پر بقید حیات ہوں۔لہذا ہم مودودی صاحب کو حیات و وفات مسیح علیہ السلام کے مسئلہ پر تحریری مبادلۂ افکار کی دعوت دیتے ہیں گو ii